عنوان: پرفیوم لگے کپڑوں میں نماز پڑھنا، نیز کئی گھنٹوں پہلے کیے ہوئے وضو سے نماز پڑھنا(108563-No)

سوال: میں صبح آفس جاتے ہوئے وضو کرلیتی ہوں، پھر آفس چلی جاتی ہوں، میرے کپڑوں پر پرفیوم بھی لگا ہوا ہوتا ہے، کیا میں اس وضو سے ان پرفیوم والے کپڑوں میں ظہر کی نماز پڑھ سکتی ہوں؟

جواب: آج کل پرفیوم اور عطر وغیرہ میں جو "الکحل" ملایا جاتا ہے، اگر وہ انگور یا کھجور کی شراب سے بنا ہوا ہو، تو وہ ناپاک ہے، اور اس کا استعمال ناجائز ہے اور اس پرفیوم کو لگا کر نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے، لیکن اگر وہ پرفیوم اِن دونوں شرابوں کے علاوہ کسی اور پاک چیز سے، مثلاً: مکئی، جوار، بیر، آلو، چاول یا پیٹرول وغیرہ سے بنا ہوا ہو، تو اس کے کپڑوں پر لگانے سے کپڑے ناپاک نہیں ہونگے، اور اس کپڑوں میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔

"احسن الفتاویٰ" (488/8) میں حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ آ ج کل "اسپرٹ اور الکحل" کیلئے انگور اور کھجور استعمال نہیں کی جاتی۔

نیز گھر سے نکلتے وقت جو وضو کیا تھا، اگر وہ وضو برقرار ہے، یعنی درمیان میں وضو ٹوٹنے والا کوئی عمل نہیں پایا گیا، تو اسی وضو سے نماز پڑھ سکتے ہیں، ازسرنو وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

تکملۃ فتح الملہم: ( کتاب الطہارۃ، الأشربۃ، حکم الکحول المسکرۃ، 408/3)
حکم الکحول المسکرۃ (Alcohals) فإنہا إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتہا أو طہارتہا ، وإن اتخذت من غیرہا فالأمر فیہا سہل علی مذہب أبي حنیفۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وإن معظم الکحول التي تستعمل الیوم في الأدویۃ والعطور وغیرہا لا تتخذ من العنب أو التمر ، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البیترول وغیرہ ، وحینئذ ہناک فسحۃ في الأخذ بقول أبي حنیفۃ عند عموم البلوٰی ؛ واللہ سبحانہ أعلم ۔


الدر المختار وحاشیة ابن عابدین: (241/1 کتاب الطھارۃ)
قال فی شرح المصابیح: وإنما یستحب الوضوء إذا صلی بالوضوء الأول صلاة، کذا فی الشرعة والقنیة. اہ. وکذا ما قالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیر للسیوطی عند حدیث من توضأ علی طہر کتب لہ عشر حسنات من أن المراد بالطہر الوضوء الذی صلی بہ فرضا أو نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر وہو ابن عمر، فمن لم یصل بہ شیئا لا یسن لہ تجدیدہ. اہ. ومقتضی ہذا کراہتہ، وإن تبدل المجلس ما لم یؤد بہ صلاة أو نحوہا لکن ذکر سیدی عبد الغنی النابلسی أن المفہوم من إطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاة أو مجلس آخر، ولا إسراف فیما ہو مشروع، أما لو کررہ ثالثا أو رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکر، وإلا کان إسرافا محضا اہ فتأمل․

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com