عنوان: دوسرے کی مملوکہ چیز کو منت میں بطورِ صدقہ دینے کا حکم(108580-No)

سوال: مفتی صاحب! اگر والد اپنے بچوں کے لیے کھیلنے کی کوئی چیز لائے اور والدہ اس کو صدقہ کرنے کی منت مانگ لے، تو کیا والدہ بچوں کی رضامندی کے بغیر وہ چیز صدقہ کرسکتی ہے؟

جواب: منت صحیح ہونے کے لئے منت مانی گئی چیز کا مالک ہونا ضروری ہے،لہذا اگر والدہ ایسی چیز کو منت میں بطورِ صدقہ دینے کی منت مانگے، جو اس کے بچوں کی ملکیت میں ہو، تو وہ منت صحیح نہیں ہوگی اور نہ ہی اس منت کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

بدائع الصنائع:(90/5،ط:دار الكتب العلمية)
(ومنها) أن يكون المنذور به إذا كان مالا مملوك الناذر وقت النذر، أو كان النذر مضافا إلى الملك، أو إلى سبب الملك، حتى لو نذر بهدي ما لا يملكه، أو بصدقة ما لا يملكه للحال - لا يصح، لقوله: - عليه الصلاة والسلام «لا نذر فيما لا يملكه ابن آدم»۔۔۔الخ

الھندیۃ:(65/2،ط:دار الفکر)
ولو قال: والله لأهدين هذه الشاة وهي مملوكة الغير لا يصح النذر ولا يلزمه شيء۔۔۔الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com