عنوان: ملازمت سے غیر حاضر رہنے پر ملازم کی تنخواہ سے کٹوتی کرنے کا شرعی حکم(108615-No)

سوال: السلام علیکم، کیا اپنے ملازم کی بار بار چھٹی کرنے پر ان دنوں کی تنخواہ کاٹی جا سکتی ہے، جن میں اس نے چھٹی کی ہے؟ جزاک اللہ خیر

جواب: واضح رہے کہ ادارے کا ملازم شرعی لحاظ سے "اجیر خاص" ہوتا ہے اور اجیر خاص ملازمت کے متعین وقت میں اپنے آپ کو اس کام کے لیے سپرد کرنے سے ہی اجرت کا مستحق بنتا ہے۔
لہذا اگر کوئی ملازم اس "متعین وقت" میں غیر حاضر رہتا ہے، تو وہ اس وقت کی تنخواہ کا مستحق نہیں ہوگا اور ادارے کا مالک اس وقت کی تنخواہ نہ دینے کا حق رکھتا ہے۔
البتہ اگر ملازم کسی عذر مثلاً: بیماری وغیرہ کی بنا پر غیر حاضر رہتا ہے، تو اس صورت میں ادارے کے قانون اور ضابطے کے مطابق عمل کیا جائے گا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ال

المبسوط للسرخسی: (162/15،ط:دار المعرفۃ بیروت)
ﻭﺇﺫا اﺳﺘﺄﺟﺮ ﺭاﻋﻴﺎ ﺷﻬﺮا ﻟﻴﺮﻋﻰ ﻟﻪ ﻓﺄﺭاﺩ اﻟﺮاﻋﻲ ﺃﻥ ﻳﺮﻋﻰ ﻟﻐﻴﺮﻩ ﺑﺄﺟﺮ ﻓﻠﺮﺏ اﻟﻐﻨﻢ ﺃﻥ ﻳﻤﻨﻌﻪ ﻣﻦ ﺫﻟﻚ؛ ﻷﻧﻪ ﺑﺪﺃ ﺑﺬﻛﺮ اﻟﻤﺪﺓ ﻭﺫﻛﺮ اﻟﻤﺪﺓ ﻟﺘﻘﺪﻳﺮ اﻟﻤﻨﻔﻌﺔ ﻓﻴﻪ ﻓﺘﺒﻴﻦ ﺃﻥ اﻟﻤﻌﻘﻮﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﻣﻨﺎﻓﻌﻪ ﻓﻴﻜﻮﻥ ﺃﺟﻴﺮا ﻟﻪ ﺧﺎﺻﺎ ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﻌﻠﻢ ﺭﺏ اﻟﻐﻨﻢ ﺑﻤﺎ ﻓﻌﻠﻪ ﺣﺘﻰ ﺭﻋﻰ ﻟﻐﻴﺮﻩ ﻓﻠﻪ اﻷﺟﺮ ﻋﻠﻰ اﻟﺜﺎﻧﻲ ﻭﻳﻄﻴﺐ ﻟﻪ ﺫﻟﻚ ﻭﻻ ﻳﻨﻘﺺ ﻣﻦ ﺃﺟﺮ اﻷﻭﻝ ﺷﻲء؛ ﻷﻧﻪ ﻗﺪ ﺣﺼﻞ ﻣﻘﺼﻮﺩ اﻷﻭﻝ ﺑﻜﻤﺎﻟﻪ ﻭﺗﺤﻤﻞ ﺯﻳﺎﺩﺓ ﻣﺸﻘﺔ ﻓﻲ اﻟﺮﻋﻲ ﻟﻐﻴﺮﻩ ﻓﻤﺎ ﻳﺄﺧﺬ ﻣﻦ اﻟﺜﺎﻧﻲ ﻋﻮﺽ ﻋﻤﻠﻪ ﻓﻴﻜﻮﻥ ﻃﻴﺒﺎ ﻟﻪ ﻭﻗﺪ ﺗﻘﺪﻡ ﻧﻈﻴﺮﻩ ﻓﻲ اﻟﻈﺌﺮ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻳﺒﻄﻞ ﻣﻦ اﻟﺸﻬﺮ ﻳﻮﻣﺎ ﺃﻭ ﻳﻮﻣﻴﻦ ﻻ ﻳﺮﻋﺎﻫﺎ ﺣﻮﺳﺐ ﺑﺬﻟﻚ ﻣﻦ ﺃﺟﺮﻩ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﻣﻦ ﻣﺮﺽ ﺃﻭ ﺑﻄﺎﻟﺔ؛ ﻷﻧﻪ ﻳﺴﺘﺤﻖ اﻷﺟﺮ ﺑﺘﺴﻠﻴﻢ ﻣﻨﺎﻓﻌﻪ، ﻭﺫﻟﻚ ﻳﻨﻌﺪﻡ ﻓﻲ ﻣﺪﺓ اﻟﺒﻄﺎﻟﺔ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﻌﺬﺭ ﺃﻭ ﺑﻐﻴﺮ ﻋﺬﺭ.

الفتاوی الھندیۃ: (499/4،ط:دار الفکر)
ﻭاﻷﺟﻴﺮ اﻟﺨﺎﺹ ﻣﻦ ﻳﺴﺘﺤﻖ اﻷﺟﺮ ﺑﺘﺴﻠﻴﻢ ﻧﻔﺴﻪ ﻭﺑﻤﻀﻲ اﻟﻤﺪﺓ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﻟﻌﻤﻞ ﻓﻲ ﺣﻘﻪ ﻻﺳﺘﺤﻘﺎﻕ اﻷﺟﺮ۔

فتاوی حقانیہ: 250/6،ط: جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 120
mulazimat se / sey ghair hazir rehne par mulazim ku tankhwa se katuti karne ka shari hukum / hukm

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.