عنوان: جن دواؤں پر "Not for sale" لکھا ہو، انکی خرید و فرخت کا حکم(108666-No)

سوال: مفتی صاحب ! جن دواؤں پر Note for sale لکھا ہو، ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر ان دواؤں کا فروخت کرنا قانوناً ممنوع نہ ہو، بلکہ یہ دوائیاں حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے ڈاکٹر کو ملکیتاً دی گئی ہوں، تو ان دواؤں کو فروخت کرنا جائز ہوگا۔

اور اگر یہ دوائیاں ڈاکٹر کو ملکیتاً نہیں دی گئیں، بلکہ مریضوں کو دینے کے لئے دی گئی ہیں، تو پھر ان دواؤں کا فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا۔

دلائل:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


الفتاویٰ الھندیۃ:(396/4،ط:مكتبةرشيدية)
قال أصحابنا جميعًا: إذا وهب هبةً وشرط فيها شرطًا فاسدًا فالهبة جائزة، و الشرط باطل كمن وهب لرجل أمة فاشترط عليه أن لايبيعها أو شرط عليه أن يتخذها أم ولد أو أن يبيعها من فلان أو يردها عليه بعد شهر فالهبة جائزة وهذه الشروط كلها باطلة، كذا في السراج الوهاج۔

ردالمحتار:(200/6،ط:سعید)
لايجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه و لا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 154

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Medical Treatment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.