عنوان: دس سال شوہر سے دور رہنے کی صورت میں خلع لینے پر عدت کا حکم(108727-No)

سوال: عرصہ دراز (10 سال) سے شوہر کی شکل نہیں دیکھی، اب میں خلع چاہتی ہوں، مجھ پر عدت ہوگی یا نہیں؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح کے بعد آپ کے شوہر نے ایک مرتبہ بھی ہمبستری کی ہو یا خلوتِ صحیحہ پائی گئی ہو، (یعنی ایسی تنہائی پائی گئی جس میں آپ دونوں میں ازدواجی تعلق قائم کرنا ممکن تھا، اور اس کیلئے کوئی شرعی یا طبعی رکاوٹ نہیں تھی) تو ایسی صورت میں طلاق یا خلع ہونے کے بعد آپ پر عدت گزارنا واجب ہوگا، چاہے عرصہ دراز سے آپ کی اپنے شوہر سے ملاقات نہ ہوئی ہو۔

دلائل:




الفتاوى الهندية:(548/1،ط:دارالفکر)
(وحكمه[الخلع]) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.

الدرالمختار:(504/3،ط:سعید)
(وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة... (بعد الدخول حقيقة، أو حكما).

الفتاوى الهندية:(579/1،ط:سعید)
رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة.

الدرالمختار:(114/3،ط:سعید)
(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي)... (كالوطء).... (في ثبوت النسب) ..... (النفقة والسكنى والعدة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 123

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.