عنوان: مرحوم شوہر کی بیوہ کی عدت کا حکم(108730-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ایک آدمی کا 3 ماہ پہلے انتقال ہوا، اس کی بیوی کہتی ہے کہ شوھر کی وفات کے 15 دن پہلے سے حیض نہیں آرہا ہے، ڈاکٹر کہتے ہیں ہیں کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے، لیکن کچھ دائیاں کہتی ہیں کہ یہ عورت حاملہ ہے۔ ایسی صورت میں اس کی عدت کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کی بیوہ حاملہ ہو، تو بیوہ کی عدت وضعِ حمل یعنی بچہ جننے تک ہے، بچہ جنتے ہی عدت ختم ہوجائے گی، اور اگر بیوہ حاملہ نہ ہو، تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔

دلائل:




القرآن الکریم:(سورۃالطلاق،الآیۃ:4)
وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ؕ ....الخ

وقال ایضاً:(سورۃالبقرۃ،الآیۃ:234)
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۚ ....الخ

الھندیۃ:(528/1،ط:دار الفکر)
وعدة الحامل أن تضع حملها۔۔۔سواء كانت عن طلاق أو وفاة ۔۔الخ

وفیہ ایضاً:(529/1،ط:دارالفکر)
عدة الحرة في الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولا بها أو لا ۔۔الخ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 194

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Iddat(Period of Waiting)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.