عنوان: چوتھے کلمے میں الفاظ "أبدًا أبدا ذو الجلال والإکرام" کیا حدیث سے ثابت ہیں؟(108736-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! سوال یہ ہے کہ چوتھے کلمہ میں لفظ ابدا ابدا ذالجلال والاکرام پڑھنا کیسا ہے؟ اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ بر صغیر کے عوام میں رائج چھ کلمے اپنی اس ترتیب اور ان ناموں کے ساتھ قرآن و حدیث سے باقاعدہ طور پر ثابت نہیں ہیں، بلکہ یہاں کے علماء کرام نے عوام کے عربی سے ناواقفیت کی بنا پر، ان کی سہولت اور آسانی کے لیے چھ کلموں کو مرتب کیا ہے، تاکہ عوام الناس کے بنیادی عقائد درست ہوں، اور ان کے لیے ان کلموں کو یاد کر کے مختلف مواقع میں پڑھنا آسان ہو، چنانچہ ان کلمات میں سے بعض کلموں کے تو تمام الفاظ احادیث مبارکہ میں مکمل طور پر اسی ترتیب کے ساتھ موجود ہیں اور کچھ کے الفاظ متفرق طور پر مختلف احادیث مبارکہ میں پائے جاتے ہیں، انہی میں سے چوتھے کلمے کے جو الفاظ احادیث میں موجود ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

مصنف عبد الرزاق میں چوتھے کلمے کے الفاظ ہیں:
’’ لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له، له الملك وله الحمد، یحیي ویمیت بیده الخیر وهو على کل شيءٍ قدیر‘‘.
(مصنف عبد الرزاق ،ج:۲،ص:۲۳۴،حدیث: ۳۱۹۲، المکتب الإسلامي، بیروت
)

اور مصنف ابن ابی شیبہ میں " بیدہ الخیر" کے بعد "یحيي ویمیت" کا بھی اضافہ ہے۔
(مصنف ابن أبي شیبة، ج:۳، ص:۳۸۲، حدیث:۱۵۱۳۶، مکتبة الرشد، ریاض)

البتہ تلاش کے باوجود ہمیں حدیث کی کسی کتاب میں یہ الفاظ: " أبدا أبدا ذو الجلال والإكرام" نہیں ملے ہیں، لیکن جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے کہ یہ کلمات عوام الناس کو عقیدہ توحید و رسالت کو مختصر لفظوں میں یاد کرنے کے لیے مرتب کیے گئے ہیں، باقاعدہ یہ حدیث کے طور پر ثابت نہیں ہیں، جبکہ ان الفاظ: " أبدا أبدا ذو الجلال والإكرام" کا معنی بھی عقیدہ توحید کے مطابق ہے، تو اس لیے اگر چوتھے کلمے میں ان الفاظ کو شامل کر کے پڑھا اور یاد کیا جائے، تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

دلائل:




مصنف عبدالرزاق:(234/2،رقم الحدیث:3192،المکتب الإسلامي)
’’عن إسماعیل بن عیاش قال: أخبرني عبد اللّٰه بن عبد الرحمٰن بن أبي حسین ولیث عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمٰن بن غنم عن رسول اللّٰه صلى الله عليه و سلم أنه قال: ’’من قال دبر کل صلاة‘‘ -قال ابن أبي حسین في حدیثه: وهو ثاني رجله- قبل أن یتکلم-: ’’ لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له، له الملك وله الحمد، یحیي ویمیت بیده الخیر وهو على کل شيءٍ قدیر‘‘ عشر مرات، کتب اللّه له بکل واحدة عشر حسنات، وحط عنه عشر سیئات، ورفع له عشر درجات‘‘.

مصنف ابن أبي شیبة:(382/3،رقم الحدیث:15136،مکتبةالرشد،ریاض)
’’أبوبکر قال: حدثنا وکیع، عن البصیر بن عدي، عن ابن أبي حسین قال: قال رسول اللّٰه صلى الله : ’’أکبر دعائي ودعاء الأنبیاء قبلي بعرفة لا إلٰه إلا اللّٰه وحده لاشریك له، له الملك وله الحمد بیده الخیر یحيي ویمیت، وهو على کل شيءٍ قدیر‘‘.

عمل الیوم واللیلۃ لابن السني:(باب ما یقول: إذا أصبح و أمسی: 52،رقم 64،ط:دارالزمان،رواہ الترمذي،باب ما یقول إذا دخل السوق 181/2)
"عن أبی صالح السمان أن أبا العیاش کان یقول: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من قال حین یصبح:لا إلا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وہو حي لایموت بیدہ الخیر وہو علی کل شيء قدیر …الخ".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Full Screen Views: 251

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.