عنوان: بیوی شوہر کے پیسوں کی کوئی چیز استعمال نہ کرنے کی قسم کھا کر توڑ دے تو کیا حکم ہے؟(8738-No)

سوال: اگر کوئی قسم کھالے کہ میں اپنے خاوند کے پیسوں کی کوئی چیز استعمال نہیں کروں گی، پھر اس کا خاوند اس کیلئے کوئی چیز خریدے، تو کیا قسم میں حانث ہوگی؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں شوہر کا بیوی کے لیے کچھ خریدنے سے قسم نہیں ٹوٹے گی، جب تک بیوی اس چیز کو استعمال نہ کرلے، جب بیوی اس چیز کو استعمال کرے گی، تو قسم ٹوٹ جائے گی، اور بیوی پر اس قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا۔
قسم توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ دس مساکین کو صبح شام (دو وقت) پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے یا دس مساکین میں سے ہر مسکین کو پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت دیدی جائے، یا دس مسکینوں کو ایک ایک جوڑا کپڑوں کا دیدیا جائے، اور اگر قسم کھانے والا غریب ہے اور مذکورہ امور میں سے کسی پر اس کو استطاعت نہیں ہے، تو پھر کفارہ قسم کی نیت سے مسلسل تین دن تک روزے رکھنے سے بھی قسم کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایۃ: 89)
لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَo

الھندیۃ: (52/2، دار الفکر)
ومنعقدة، وهو أن يحلف على أمر في المستقبل أن يفعله، أو لا يفعله، وحكمها لزوم الكفارة عند الحنث كذا في الكافي.

الدر المختار: (729/3)
"(ومن حرم) أي على نفسه .... (شيئا) (ثم فعله) بأكل أو نفقة .... (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 191
biwi shohar ke / kay peso / peson ki cheez istemal na karne / karnay ki qasam kha kar tor de to kia hokom / hokum hay / he?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Ruling of Oath & Vows

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.