عنوان: کرائے دار سے وعدہ خلافی کرکے اس کی اجازت کے بغیر شئی موجرہ کی بیع کا حکم(8764-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب !ایک مسئلہ کے شرعی حکم کی رہنمائی فرما دیں۔
میری شاپنگ مال میں کرائے کی دکان ہے، جو کہ میں نے ایک سال کے ایگریمنٹ پر بات کر کے لی تھی، لیکن کچھ دنوں بعد ایگریمنٹ بناتے وقت مالی حالات کمزور ہونے کی بنا پر میں نے مالک سے کہا کہ فی الحال ایڈوانس نہیں ہے، آپ بغیر ایڈوانس کے مجھے ایگریمنٹ دے دیں۔
تو مالک نے یہ کہا کہ ہم دونوں تو جان پہچان والے ہیں، ایگریمنٹ کی کیا ضرورت ہے، بس آپ کرایہ ٹائم پر دیتے رہنا، کوئی بات نہیں، لیکن 6 ماہ بعد مالک نے اچانک دکان بیچنے کا ارادہ کر لیا اور 2 لاکھ ٹوکن لیکر 22 لاکھ دکان کسی اور پارٹی کو بیچنے کی بات کردی، اب جب مجھے پتہ چلا، تو میں نے مالک کو کہا: یا تو دکان مجھے اسی رقم پر بیچ دو، یا مجھے گیارہ ماہ تک کے کرایہ پر برقرار رکھو، مالک نے اپنی نئی پارٹی (جو دکان خرید رہی ہے) کو کہا کہ تم میرے کرایہ دار کو گیارہ ماہ تک کے لیے کرائے پر رکھو گے؟ تو اس نے کہا کہ نہیں، میں یہ دکان خود رکھوں گا۔ اب کیا دو لاکھ ٹوکن لینے سے دکان کا معاملہ ڈن ہوجاتا ہے یا جب تک پورے پیسے نہ ملیں، تب تک وہ معاملہ پینڈنگ میں رہتا ہے؟
میں نے مالک سے کہا کہ تم نے تو دو لاکھ کا ٹوکن لے کر وعدہ کیا ہے، دوسری طرف مجھے نقصان ہو رہا ہے کہ نئی پارٹی آئے گی، تو وہ مجھ سے دکان خالی کروائے گی، میں نے مارکیٹ میں مندی کے مہینے گزار لیے ہیں، اب سیزن آرہا ہے، جس میں ہماری سال کی کمائی نکل آتی ہے، اگر درمیان میں مجھے دکان خالی کرنی پڑی، تو میرا نقصان ہو جائے گا، تو میں نے مالک سے کہا کہ تم وعدہ کو پورا نہ کرو اور یہ سودا کینسل کر دو، تاکہ مجھے نقصان نہ ہو، اس کا کہنا ہے کہ اگر اس وعدہ خلافی کی اجازت ہو، تو میں ایسا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
برائے کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا

جواب: بنیادی طور پر اس مسئلہ میں تین لوگ شامل (Involve) ہوگئے ہیں، پہلا جس نے اس دکان کو ایک سال کے لیے کرائے پر دےکر مدت پوری ہونے سے پہلے بیعانہ لےکر آگے بیچ دیا، دوسرا کرایہ دار یعنی آپ، تیسرا خریدار۔
جس شخص نے آپ سے کرایہ داری کا عقد کیا تھا، اس کے لیے مدت پوری ہونے سے پہلے اس چیز کو آگے بیچنا درست نہیں تھا، لیکن جب اس نے بیچ دیا، تو اس کی طرف سے بیچنے کا یہ عقد بھی مکمل ہوگیا، اب وہ اسے توڑ نہیں سکتا۔
تاہم اس کے بیچنے کے عقد کی وجہ سے آپ کا کرائے داری کا عقد نہیں ٹوٹا، آپ کا کرائے داری کا معاملہ اپنی جگہ باقی ہے، اور مدت کے پورا ہونے تک باقی رہےگا، لہٰذا اگر واقعتاً اس شخص نے معاہدے میں آپ کے ساتھ ایک سال کی مدت طے کی تھی، تو اس کے لیے فوری طور پر مدت پوری ہونے سے پہلے آپ کو نکالنا جائز نہیں ہے۔
البتہ فوری قبضہ نہ ملنے کی وجہ سے خریدار کو بھی کچھ ممکنہ نقصان کا خدشہ ہوسکتا ہے، اس لیے اسے بھی دو اختیارات (Options) حاصل ہیں:
پہلا یہ کہ یا تو وہ اس دکان کے خریدنے کے عقد کو فسخ (ختم) کردے، یا پھر کم از کم آپ کے کرائے داری کی مدت پوری ہونے تک انتظار کرے، اور اس دوران اس دکان کا کرایہ آپ سے وصول کرتا رہے، اور پھر مدت پوری ہونے کے بعد آپ سے یہ دکان خالی کرالے، لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ شرعی طور پر مدت پوری ہونے سے پہلے آپ کی رضامندی کے بغیر آپ سے دکان خالی نہیں کرائی جاسکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مجلة الأحكام العدلية: (ص: 109، ط: نور محمد)
(‌المادة: 590) لو باع الآجر المأجور بدون إذن المستأجر يكون البيع نافذا بين البائع والمشتري , وإن لم يكن نافذا في حق المستأجر حتى أنه بعد انقضاء ‌مدة ‌الإجارة يلزم البيع في حق المشتري , وليس له الامتناع عن الاشتراء إلا أن يطلب المشتري تسليم المبيع من البائع قبل انقضاء ‌مدة ‌الإجارة , ويفسخ القاضي البيع لعدم إمكان تسليمه , وإن أجاز المستأجر البيع يكون نافذا في حق كل منهم , ولكن لا يؤخذ المأجور من يده ما لم يصل إليه مقدار ما لم يستوفه من بدل الإجارة الذي كان أعطاه نقدا , ولو سلم المستأجر المأجور قبل استيفائه ذلك سقط حق حبسه.

البحر الرائق: (162/6، دار الكتاب الإسلامي)
وقيد ببيع ملك الغير لأنه لو باع ملك نفسه مشغولا بحق الغير كالرهن إذا باعه الراهن، والعين المؤجرة إذا باعها المؤجر يتوقف العقد على إجازة المرتهن، والمستأجر فيملكانها دون الفسخ على الصحيح كما سيأتي، وفرق بينهما الكرابيسي فجعل للمرتهن الإجازة والفسخ دون المستأجر فلا يملكه فارقا بأن المستأجر حقه في المنفعة.

رد المحتار: (566/4، ط: الحلبي، بيروت)
(قوله: وظهور المبيع ‌مستأجرا أو ‌مرهونا) أي ولو اشترى دارا مثلا فظهر أنها مرهونة أو مستأجرة يخير بين الفسخ وعدمه، وظاهره أنه لو كان عالما بذلك لا يخير، وهو قول أبي يوسف. وقالا: يتخير ولو عالما، وهو ظاهر الرواية كما في جامع الفصولين. وفي حاشيته للرملي: وهو الصحيح وعليه الفتوى كما في الولوالجية اه. وكذا يخير المرتهن والمستأجر بين الفسخ وعدمه وهو الأصح كما في جامع الفصولين، لكن في حاشيته للرملي عن الزيلعي أن المرتهن ليس له الفسخ. في أصح الروايتين. وفي العمادية أن المستأجر له ذلك في ظاهر الرواية. وذكر شيخ الإسلام أن الفتوى على عدمه وسيأتي في فصل الفضولي أن من الموقوف بيع المرهون والمستأجر والأرض في مزارعة الغير على إجازة مرتهن ومستأجر ومزارع اه. فإن أجاز المستأجر أو المرتهن فلا خيار للمشتري وإن لم يجز فالخيار للمشتري في الانتظار والفسخ، وسيأتي تمامه في فصل الفضولي.

الدر المختار مع رد المحتار: (110/5، ط: الحلبي، بيروت)
(و) وقف (بيع المرهون والمستأجر والأرض في مزارعة الغير) على إجازة مرتهن ومستأجر.
مطلب في بيع المرهون المستأجر: «(قوله: ووقف بيع المرهون والمستأجر إلخ) أي فإن أجازه المرتهن والمستأجر نفذ وهل يملكان الفسخ؟ قيل: لا وهو الصحيح ....وليس للراهن والموجر الفسخ، وأما المشتري فله خيار الفسخ إن لم یعلم بالإجارة والرهن عند أبي يوسف، وعندهما له ذلك وإن علم، وعزى كل منهما إلى ظاهر الرواية كما في الفتح، لكن في حاشية الفصولين للرملي عن الولوالجية: أن قولهما هو الصحيح وعليه الفتوى. بقي لو لم يجز المستأجر حتى انفسخت الإجارة نفذ البيع السابق ... وفیه أيضا عن الذخيرة: "البيع بلا إذن المستأجر نفذ في حق البائع والمشتري لا في حق المستأجر، فلو سقط حق المستأجر عمل ذلك البيع ولا حاجة إلى التجديد وهو الصحيح، ولو أجازه المستأجر نفذ في حق الكل، ولا ينزع من يده لیصل إلیه ماله؛ إذ رضاه بالبیع یعتبر لفسخ الإجارة، لا للانتزاع من یده. وعن بعضنا أنه لو باع وسلم أجازهما المستأجر بطل حق حبسه، ولو أجاز البيع لا التسليم لا يبطل حق حبسه اه. [تنبيه] لو بيع المستأجر من مستأجره لا يتوقف كما علم مما ذكرناه، وبه صرح في الفصولين وغيره. وفيه: باع المستأجر ورضي المشتري أن لا يفسخ الشراء إلى مضي مدة الإجارة ثم يقبضه من البائع، فليس له مطالبة البائع بالتسليم قبل مضيها، ولا للبائع مطالبة المشتري بالثمن ما لم يجعل المبيع محل التسليم.

فقہ البیوع: (400/1، ط: مكتبة معارف القران)
القبض فی الدار المؤجرة: وإن کانت الدار مؤجرةً یجوز للمالك بیعها من غیر المستأجر بإذن المستأجر، و لا یتحقق التسلیم إلا بعد مضی مدة الإجارة. قال ابن عابدین رحمه الله تعالیٰ: "ویدخل فی الشغل بحق الغیر ما لو کانت الدار مأجورةً، فلیس للبائع مطالبة المشتری بالثمن لعدم القبض. " ثم نقل عن جامع الفصولین : "باع المستأجِر (یعنی الدار المؤجرة) ورضی المشتری أن لا یفسخ الشراء إلی مضی مدة الإجارة ثم یقبضه من البائع فلیس له مطالبة البائع بالتسلیم قبل مضیها، و لا للبائع مطالبة المشتری بالثمن، ما لم یجعل المبیع بمحل التسلیم ".
أما إذا فسخ المستاجر الإجارة من البائع، وعقدها مع المشتری من جدید، فالظاهر أن القبض یتحقق بعقد المشتری الإجارة مع المستأجر؛ لأنه تصرف فی المبیع من قبل المشتری، وهو یقوم مقام القبض. جاء فی شرح المجلة عن الخلاصة: "وإن کانت داراً فآجرها المشتری، إن سلمها إلی المستأجر، صار قابضاً، وإلا فلا."
وهل تثبت هذه الإجارة الجدیدة من المشتری اقتضاءً إن قال له البائع: "سلمت إلیك الدار بأن تکون أجرتها لك منذ الیوم، وقبل ذلك المستأجر؟ الظاهر: نعم؛ لأن مثل ذلك یعتبر قبضاً فی عرف المستغلات. وقد ثبت فی قوانین أکثر البلاد أن البائع إن باع داراً موجرةً وسجلها باسم المشتری فإن عقد الإجارة یتحول إلی المشتری بحکم القانون، فینفسخ عقد المستأجر مع البائع، وینعقد مع المشتری. وهذا دلیل ثبوت الإجارة الجدیدة اقتضاءً بحکم العرف. ویؤیده ما فی البدائع فی مبحث خیار الشرط:
"ولو كان فيها ساكن بأجر فباعها البائع برضا المستأجر وشرط الخيارَ للمشتري، فتركه المشتري فيها، أو استأوى الغلة فهو إجازة؛ لأن الأجرة بدل المنفعة فكان أخذها دلالة قصد تملك المنفعة أو تقرير ملك المنفعة، وذلك قصد تملك الدار، أو تقرر ملكه فيها، فكان إجازة."

المعاییر الشرعیة: (ص: 251)
1/7 : بيع العين الموجرة أو هلاكها:
2/1/7 : یحق للمؤجر بیع العین المؤجرة لغیر المستأجر، وتنتقل ملکیتها محملةً بعقد الإیجار؛ لأنه حق للغیر، ولایشترط رضا المستأجر، أما المشتری فإنه إذا لم یعلم بعقد الإیجار فله حق فسخ البیع، وإذا علم وقبل فإنه یحل محل المالک السابق فی استحقاق الأجرة عن المدة الباقیة.

الفقه الإسلامي و أدلته: (3532/5، دار الفكر)
خيار تعلق حق الغير بالمبيع: هو الخيار الثابت لمن له حق في المبيع من دائن مرتهن أو مستأجر، فإذا اشترى رجل دارا ثم ظهر أنها مرهونة أو مؤجرة، خير بين الفسخ وعدمه، دفعا للضرر عن نفسه، حتى ولو كان عالما بذلك في ظاهر الرواية، وهو الصحيح وعليه الفتوى. فإن أجاز المستأجر أو المرتهن فلا خيار للمشتري، وإن لم يجز ثبت الخيار له بين الانتظار حتى نهاية مدة الإجارة وفكاك الرهن، أو الفسخ.

تنقيح الفتاوى الحامدية: (133/2، دار المعرفة)
(سئل) في ‌المؤجر إذا ‌باع ‌الدار المستأجرة ولم يجز المستأجر البيع وأراد المشتري إخراجه منها قبل تمام مدة إجارته فهل ليس للمشتري ذلك؟ (الجواب): نعم.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 261
karaye dar se / say wada khilafi karke us ki ijazat ke / kay baghair shey muajjira ki bay ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2023.