عنوان: کبوتر بازی سے متعلق ایک حدیث کا بیان(108791-No)

سوال: مفتی صاحب ! اس حدیث کی تصدیق فرمادیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، جو ایک پرندہ کے پیچھے لگا ہوا تھا، (یعنی سے اڑا رہا تھا) تو آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان ہے، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ (ابن ماجہ، رقم الحدیث:3764)

جواب: سوال میں مذکور حدیث "حسن" ہے، جو کہ حدیث کی مشہور کتاب "سنن ابن ماجہ" میں مذکور ہے، ذیل میں اس حدیث کو سند، متن اور ترجمہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:
حدثنا عبد الله بن عامر بن زرارة، حدثنا شريك، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن عائشة، أن النبي صلى الله عليه وسلم نظر إلى إنسان يتبع طائرا، فقال: "شيطان يتبع شيطانا".
(سنن ابن ماجہ: 5/ 315، رقم الحدیث: (3764)، كتاب الأدب/ بَابُ اللَّعِبِ بِالْحَمَامِ)
قال المحقق الدکتور بشار عواد معروف: إسناده حسن
.
ترجمہ: ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا، جو ایک پرندہ کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا، (پرندے کے ساتھ کھیل رہا تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شیطان ہے، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پرندوں کو ان کی صحت اور راحت کا خیال رکھتے ہوئے پالنا فی نفسہ جائز ہے، البتہ ان پرندوں کے ساتھ کھیلنے کا مستقل مشغلہ بنا لینا، جیسے کبوتر بازی وغیرہ، تو یہ شرعاً ناپسندیدہ ہے، مذکورہ بالا حدیث میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اسی نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار:(کتاب الحظر والإباحة،401/6)
" قوله: ( وأما للاستئناس فمباح ) قال في المجتبى رامزاً: "لا بأس بحبس الطيور والدجاج في بيته، ولكن يعلفها وهو خير من إرسالها في السكك اهـ ،وفي القنية رمزاً: حبس بلبلاً في القفص وعلفها لايجوز اهـ
أقول: لكن في فتاوى العلامة قارىء الهداية: سئل هل يجوز حبس الطيور المفردة؟ وهل يجوز عتقها؟ وهل في ذلك ثواب؟ وهل يجوز قتل الوطاويط لتلويثها حصر المسجد بخرئها الفاحش؟ فأجاب: يجوز حبسها للاستئناس بها، وأما إعتاقها فليس فيه ثواب، وقتل المؤذي منها ومن الدواب جائز اهـ ، قلت: ولعل الكراهة في الحبس في القفص؛ لأنه سجن وتعذيب دون غيره كما يؤخذ من مجموع ما ذكرنا، وبه يحصل التوفيق، فتأمل".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com