عنوان: بیوی، ایک بھتیجے اور پانچ بھتیجیوں میں میراث کی تقسیم(108796-No)

سوال: کیا ایک بیوہ خاتون اپنے خاوند کی وفات کے بعد اس کی میراث میں 100 فیصد وراثت کا شرعی حق رکھتی ہے، جب کہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو اور مرحوم کے فقط ایک بڑے بھائی ہوں، جن کی وفات مرحوم شوہر سے 4 سال پہلے ہوچکی ہو اور ان کا ایک بیٹا اور 5 بییٹیاں ہوں؟ نوٹ : مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے انتقال کرچکے ہیں۔ براہ کرم وضاحت فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ اگر شوہر کا انتقال ہو جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو، تو شوہر کی میراث میں سے بیوی کو چوتھائی (1/4) حصہ ملتا ہے، اور اگر شوہر کی کوئی اولاد ہو، تو بیوی کو آٹھواں (1/8) حصہ ملتا ہے، اس کے بعد باقی میراث دیگر شرعی ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔

پوچھی گئی صورت میں مرحوم شوہر کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو، تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو ایک (1) اور بھتیجے کو تین (3) حصے ملیں گے، بھتیجوں کے ہوتے ہوئے بھتیجیوں کو مرحوم چچا کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا۔

اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں، تو
بیوہ کو % 25 فیصد
بھتیجے کو % 75 فیصد ملے گا۔

....................
دلائل:

قال الله تعالیٰ:(النساء،الایۃ:12)
ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم... الخ.

الشامیۃ:(کتاب الفرائض،فصل في العصبات،783،6،ط:ایچ ایم سعید)
"أن ابن الأخ لايعصب أخته، كالعم لايعصب أخته، و ابن العم لايعصب أخته، و ابن المعتق لايعصب أخته، بل المال للذكر دون الأنثى؛ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبية: و ليس ابن الأخ بالمعصب ... من مثله أو فوقه في النسب."

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com