عنوان: بہن کو زکوٰۃ دینے کا حکم (108839-No)

سوال: السلام علیکم، گزارش یہ ہے کہ کیا میں اپنی بہن کو زکوۃ دے سکتا ہوں یا نہیں؟ بہن شوہر سے ناراض ہو کر اپنے گھر آئی ہوئی ہے، ان کا حق مہر چار تولے سونا اور ایکڑ زمین ہے، مگر چھ مہینے ہو گئے ہیں، ہو سکتا ہے کہ اس سے طلاق لیں گے، بہن اپنے گھر پشاور میں ہے اور میں کراچی میں ہوں، تو میں اپنی بہن کو زکوۃ دے سکتا ہوں یا نہیں؟ تنقیح: محترم! اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ آپ کی بہن کے شوہر نے ان کا حق مہر ان کے حوالے کیا ہے یا نہیں؟ اس کی وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔ دارالافتاء الاخلاص،کراچی جواب تنقیح: جی ! حق مہر ابھی تک نہیں دیا، چار تولہ سونا اور دو ایکڑ زمین وہ ابھی تک شوہر کے پاس ہے۔

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر آپ کی بہن کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا مال یا سامان موجود نہ ہو، جس کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچتی ہو، تو بہن کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں، اور حقِ مہر چونکہ ابھی تک وصول نہیں ہوا، اس لیے فی الحال اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

البحر الرائق: (260/2، ط: دار الكتاب الاسلامى)
في المحيط، وإن كان تاجرا له دين على الناس لا يقدر على أخذه، ولا يجد شيئا يحل له أخذ الزكاة؛ لأنه فقير يدا كابن السبيل اه.

الدر المختار مع رد المحتار: (347/2، ط: دار الفکر)
(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان.
(قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة، لما روي عن الحسن البصري قال كانوا يعني: الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم، وهذا؛ لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 190
behen / sister ko zakat dene / denay ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.