عنوان: "سو بسم الله" كہنے کا حکم(108851-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! آج کل بعض لوگ ایک جملہ استعمال کرتے ہیں "سو بسم اللہ" ایک صاحب نے یہ کہا تو ایک عرب نے اعتراض کیا کہ یہ کیوں کہتے ہو؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ اور کیا اس میں بسم اللہ کی بے ادبی نہیں ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: "بسم اللہ" کا مطلب ہوتاہے اللہ کے نام سے ، اور "سو بسم اللہ" کا مطلب ہماری معلومات کے مطابق یہ ہوتا ہے سو مرتبہ اللہ کے نام سے، جس سے مقصودکثرت ہوتی ہے، لہٰذااگر کہنے والے کی اس سے یہی مراد ہو تواصولی طورپر یہ جملہ کہنا جائز ہے۔

البتہ بے ادبی کے ہونے یا نہ ہونے کا مدار سیاق وسباق پر بھی ہوتاہے، مثلا کسی گناہ یا برے کام کے لیے بسم اللہ پڑھنابے ادبی ہے، اس لیے اگر سیاق وسباق کے اعتبار سے کوئی مفسدہ (خرابی) موجود نہ ہوتو ایسا کہنے میں بے ادبی نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مسندأحمد: (رقم الحديث: 329/14،8712)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول ‌الله صلى ‌الله عليه وسلم: " كل كلام، أو أمر ‌ذي ‌بال لا يفتح بذكر ‌الله، فهو أبتر - أو قال: أقطع.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 330
"سو بسم الله" kehne ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.