عنوان: مکان کا سودا ہوجانے کے بعد مکان کی واجب الاداء رقم پر زکوۃ کا شرعی حکم(108853-No)

سوال: محترم ! ایک شخص نے مکان خریدنے کے لیے کئی سال کچھ رقم جمع کی اور ہر سال زکوۃ ادا کی اور پھر مکان خریدنےکا سودا بھی کرلیا، لیکن قانونی و کاغذی کاروائی میں تاخیر ہوئی اور پیمنٹ خریدار کے اکاؤنٹ میں تھی کہ اس دوران زکوۃ کی سالانہ تاریخ آگئی، اب کیا اس رقم پر اس سال بھی زکوۃ لازم ہو گی، جبکہ سودا ہو چکا ہے، لیکن تاخیر کے باعث ابھی پیمنٹ نہیں ہو سکی ہے؟ جزاک اللہ خیرا

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر مکان کی خریداری کا سودا مکمل ہوچکا ہے، یعنی آپس میں گھر کی خریداری کے معاملے پر ایجاب و قبول ہوچکا ہے، تو خریدار کے ذمہ مکان کی قیمت واجب الاداء ہے، لہذا زکوۃ کا سال مکمل ہونے پر اس مکان کی رقم پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھداية: (کیفیۃ انعقاد البیع، 24/3، ط: دار احیاء التراث العربی)
"والأثمان المطلقة لا تصح إلا أن تكون معروفة القدر والصفة"؛ لأن التسليم والتسلم واجب بالعقد، وهذه الجهالة مفضية إلى المنازعة فيمتنع التسليم والتسلم، وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز، هذا هو الأصل.

الفتاوی الھندیۃ: (الباب الاول فی تفسیرھا، 172/1، ط: دار الفکر)
(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 188
makan / ghar ka soda hojane ke / kay bad makan / ghar ki wajib ul ada raqam per / par zakat ka sharae / sharai hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.