عنوان: ایک ہی گھر میں بھابھی اور دیور کا بغیر کسی محرم کے رہائش رکھنے کا حکم(108896-No)

سوال: السلام علیکم ، مفتی صاحب! میرے شوہر باہر ملک ملازمت کرتے ہیں، ان کے پہلی بیوی سے تین بچے ہیں، پہلے کی عمر 11 سال ہے، دوسرے کی 10 اور تیسرے کی 8سال ہے اور میری بھی پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہے، جس کی عمر تقریباً 20 سال ہے، ہمارے ساتھ میرے ایک دیور بھی رہتے ہیں، جو غیر شادی شدہ ہیں، جو صبح کام پر جاتے ہیں، تو رات کو دس بجے تک واپس آتے ہیں، اور وہ مجھ سے سوائے ضروری بات کے کچھ اور بات نہیں کرتے اور جب بات کرتے ہیں، تو پردہ میں کرتے ہیں، وہ شروع سے اسی گھر میں رہ رہے ہیں، جب تک میری ساس حیات تھیں، تب تک تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن اب میری ساس کا بھی انتقال ہوگیا ہے، تو کیا ان کا ہمارے ساتھ رہنے میں شرعاً کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمادیں۔

جواب: سوال میں پوچھی گئی صورت میں آپ ضرورت کے وقت دیور سے بات کرسکتی ہیں، اس کے علاوہ دیور کے ساتھ بلاتکلف ہونے، ہنسی مذاق کرنے اور خلوت یعنی تنہائی میں اکٹھا ہونے کی شریعت قطعاً اجازت نہیں دیتی، کیونکہ اس میں دونوں کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔

ذکر کردہ صورت میں ان تمام باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے، اگر ادنی سا بھی فتنہ کا خوف یا اندیشہ ہو، تو آپ دونوں کا ایک گھر میں اس طرح رہنا جائز نہیں ہے۔
لہٰذا آپ کے لیے بہر صورت بہتر یہ ہے کہ جلد از جلد کوئی مناسب متبادل صورت اختیار کرنے کی کوشش کریں، تاکہ مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ فتنوں کا مکمل طور پر سدِ باب ہوسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (سورۃ الاحزاب، الآیۃ: 59)
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًاo

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 1171)
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْوُ الْمَوْتُ.
قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 382
aik he ghar me / may bhabhi, or dewar ka bahair kisi mehram ke / kay rihayesh / rehaish / rehne ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.