عنوان: حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کی تفصیل(100894-No)

سوال: مفتی صاحب ! عرض یہ کرنا تھا کہ سلیمان علیہ السلام کا جو تخت تھا، اُس کے بارے میں پوچھنا تھا، سنا ہے ک جب انکا تخت لگتا تھا تو اس پر 6 لاکھ سونےکی کرسیاں لگتی تھیں، ان میں سے 2 لاکھ پر صرف جنات کے علماء بیٹھتے تھے، تو جو باقی 4 لاکھ ہیں، ان پر کون تشریف رکھتے تھے ؟

جواب: ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ تخت سلیمانی پر چھ لاکھ کرسیاں رکھی ہوتی تھی، جس پر پہلے مومن انسان سوار ہوتے تھے اور ان کے پیچھے مومن جنات سوار ہوتے تھے، پھر پرندوں کو حکم ہوتا تھا کہ اس پورے تخت پر سایہ کرلیں، تاکہ سورج کی تپش سے تکلیف نہ ہو، پھر ہوا کو حکم دیا جاتا کہ وہ اس عظیم الشان تخت اٹھا کر وہاں پہنچا دیتی، جہاں کا اسے حکم ہوتا تھا، وہاں پہنچا دیتی تھی۔
(معارف القرآن: 6/213، ادارة المعارف ، کراچی)

علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ چار لاکھ کرسیاں تخت پر رکھی جاتی تھی، پھر مراتب کے اعتبار سے انسان وجنات سوار ہوتے تھے اور صبح کے وقت بیت المقدس سے اصطخر کا سفر کرتے تھے اور رات پھر واپس بیت المقدس میں گزارتے تھے۔
(تفسیر قرطبی:14/238، ط، مکتبہ حقانیہ،پشاور)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تفسیر ابن ابی حاتم: (2855/9، ط: مکتبۃ نزار مصطفی الباز)
عن سعيد بن جبير قال: كان يوضع لسليمان ثلاثمائة ألف كرسي، فيجلس مؤمنو الإنس مما يليه ومؤمنو الجن من ورائهم، ثم يأمر الطير فتظله، ثم يأمر الريح فتحمله قال سفيان فيمرون على السنبلة فلا يحركونها.

تفسیر القرطبی: (269/14، ط: دار الکتب المصریۃ)
وروى سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: كان سليمان إذا جلس نصبت حواليه أربعمائة ألف كرسي، ثم جلس رؤساء الإنس مما يليه، وجلس سفلة الإنس مما يليهم، وجلس رؤساء الجن مما يلي سفلة الإنس، وجلس سفلة الجن مما يليهم، وموكل بكل كرسي طائر لعمل قد عرفه، ثم تقلهم الريح، والطير تظلهم من الشمس، فيغدو من بيت المقدس إلى إصطخر، فيبيت ببيت المقدس

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 365
hazrat sulaiman (A.S) ke takht ki tafseel , details/explanation regarding the throne of hazrat Sulaiman (A.S)

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.