عنوان: ماں اگر اپنے شیر خوار بچے کو غلطی سے پھٹا ہوا دودھ پلادے، جس کے نتیجے میں بچہ بیمار ہو کر انتقال کر جائے، تو اس کی ماں پر کیا کفارہ آئے گا؟ (108956-No)

سوال: ایک خاتون کا کہنا ہے کہ میرا ایک شیر خوار بچہ تھا، جسے میں اپنا دودھ نہ ہونے کی وجہ سے بکری کا دودھ پلاتی تھی، کسی دن برتن میں ایک دن پرانا دودھ پڑا تھا، جو پھٹ کر خراب ہوگیا تھا، وہ اسے میں نے پلایا، پلاتے وقت مجھے خیال آیا بھی کہ دیکھنا چاہئے کہ کہیں دودھ خراب نہ ہو، کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا بھی، لیکن ایک تو اندھیرے کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہا تھا، دوسرا یہ کہ کسی کام کی جلدی بھی تھی، تو صرفِ نظر کیا کہ دیکھا جائے گا، لیکن وہی دودھ پلانے کے بعد بچہ بیمار ہوا، علاج معالجہ بھی کرایا، لیکن کچھ دن بعد وہ فوت ہوگیا، کیا مجھ پر اس کا گناہ ہے؟ تلافی یا کفارہ کی کیا صورت ہوگی؟

جواب: صورت مسئولہ میں چونکہ ماں نے اپنے بچے کی غذا کے حوالے سے ضروری دیکھ بھال کر لی تھی، (اگرچہ زیادہ احتیاط کا تقاضا یہ تھا کہ وہ دودھ کے صحیح ہونے کا یقین کر لیتی) لیکن بعد میں علم ہوا کہ وہ دودھ پھٹا ہوا تھا، نیز عموماً پھٹا ہوا دودھ پینا موت کا سبب نہیں بنتا ہے، لہذا ایسی صورت میں ماں پر کوئی ضمان اور کفارہ نہیں ہے، البتہ اس سلسلہ میں آئندہ زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مجمع الضمانات: (345/1، ط: دار الکتاب الإسلامي)
"المباشر ضامن وإن لم يتعد، والمتسبب لا، إلا إذا كان متعدياً، فلو حفر بئراً في ملكه فوقع فيها إنسان لم يضمنه، ولو في غير ملكه ضمنه".

الفتاوی الخیریة: (195/2، ط: المطبعة الكبرى الميرية، مصر)
"(سئل) فی امرأة لها ابن سنه ثمان سنین من زوج توفی، وبنت من آخر هو حی خرجت أمهما بهما لمصلحة اقتضت الخروج وأمرت ابنها المذکور بحمل أخته المذکورة فحملها فعثر بها فوقعا علی الأرض فانشج رأس الصغیرة ومکثت أیاماً ثم ماتت هل علی الأم أوالصبی فی ذلك ضمان أم لا؟ (أجاب) لا ضمان علی الأم ولا علی الصبی، والحال هذه واللہ اعلم….(سئل) فی صغیرة بنت ثلاث سنین فی حضانة الأم خرجت للتفرج وترکتها بلا حافظ لها فوقعت فی قدر طعام حار کانت بین یدیها فهلکت، هل تضمن الأم أم لا؟ (أجاب) نعم تضمن الأم؛ لترکها الحفظ الواجب علیها، وقد صرح بالمسئلة الزاهدی فی القنیة والحاوی، قال فیهما رامزاً لشرف الأئمة المکی: صبی ابن ثلاث سنین وحق الحضانة للأم فخرجت وترکت الصبی فوقع فی النار تضمن الأم، ورمز للمحیط وقال: لاتضمن فی ابن ست سنین ثم رمز لمجد الأئمة الحکمی وقال: امرأة ترکت ولدها عند امرأة وقالت: احفظیه حتی أرجع، فذهبت وترکته فوقع الصغیر فی النار فعلیها الدیة للأموسائر الورثة إن کان ممن لایحفظ نفسه، ورمز للمحیط وقال: أودعت صبیة فوقعت فی الماء فماتت فإن غابت عن بصرها ضمنت وإلا فلا اه، ووجه الضمان فی جمیع المسائل المذکورة ترك الحفظ الواجب".

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 201
maa / walida / mother agar apne sheer khwar bache / child ko ghalti se / say phata hoa doodh / milk pilade,jis ke / kay natije me / mein bacha / child bemar hokar intiqal karjai / karjaye,too us ki maa/ walida per / par kia kaffara aye ga?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.