عنوان: سسرال میں عدت گزارنے میں اگر جان کا خطرہ ہو، تو طلاق یافتہ عورت عدت کہاں گزارے گی؟(109062-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! ایک مطلقہ عورت ہے، اس کی سسرال سے لڑائی ہے، یہاں تک کہ جان سے مار دینے کی دھمکی ہے اور میکے والے بھی مکمل طور پر بائیکاٹ کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس نہیں آنا، ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب ایسی مطلقہ عورت عدت کہاں گزارے گی؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ سسرال میں عدت گزارنے میں طلاق یافتہ عورت کو اپنی جان کا خطرہ ہے، لہذا یہ عورت ایسی جگہ عدت گزارے، جہاں اسے مکمل طور پر تحفظ حاصل ہو۔

دلائل:




القرآن الكريم:(سورة الطلاق،الآیۃ:1)
لَا تُخْرِجُوْهن مِنْ بُیُوْتِهنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا اَنْ یَأ تِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنة۔۔۔۔ الخ

الدرالمختار:(537/3،ط:دارالفکر)
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه.

الھندیۃ:(587/1،ط:دارالفکر)
فإن کان الزوج فاسقا یخاف علیہا منہ فإنہا تخرج و تسکن منزلا آخر احترازاً عن المعصیۃ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.