عنوان: کان میں پیپ لگی ہونے کی صورت میں اگر نماز پڑھ لی، تو کیا نماز ہوجائے گی؟(109083-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! میرا سوال ہے کہ اگر کسی انسان کا کان خراب ہو اور اس سے پیپ نکلتی ہو اور وه کان کے سراغ سے نکل کر باہر آجاۓ اور سراغ سے باہر والے حصے پر لگ جاۓ اور ڈاکٹر نے کان دھونے سے منع کیا ہو، تو کان کو صاف کیے بغیر پیپ سوراخ سے باہر لگی رہے اور مریض کو پتا بھی نہ لگے تو اس حالت میں جو نماز پڑھ لی، اس نماز کا کیا حکم ہو گا؟

جواب: ذکر کردہ صورت میں اگر کان پر لگی پیپ کا صاف کرنا ہر صورت میں نقصان دہ تھا، اور اسے بغیر نقصان پہنچے صاف کرنے کی کوئی صورت بھی ممکن نہیں تھی، تو ایسی صورت میں عذر کی وجہ سے کان سے پیپ کو صاف کئے بغیر نماز ادا کرنا درست تھا۔
البتہ اگر کان سے نکلنے والی پیپ کو نقصان پہنچے بغیر مثلاً گیلا ہاتھ پھیر کر صاف کرنا ممکن تھا، تو ایسی صورت میں نماز ادا ہونے یا نہ ہونے کا مدار پیپ کی مقدار پر ہے، اگر پیپ ایک درہم کی مقدار (ہتهیلی کی گہرائی) سے زیادہ لگی ہوئی تھی، تو ایسی صورت میں نماز ادا نہیں ہوئی، نماز کو دوبارہ لوٹانا ضروری ہے، اور اگر ایک درہم کے برابر پیپ لگی ہوئی تھی، تو اس صورت میں نماز مکروہِ تحریمی ہوگئی، جس کا حکم یہ ہے کہ وقت کے اندر اندر اس کو لوٹانا واجب تھا، اور اگر وقت میں نہیں لوٹا سکے، تو وقت گزرنے کے بعد بھی اس کو لوٹانا مستحب ہے، اور اگر پیپ کی مقدار ایک درہم سے کم تھی، تو اس صورت میں نماز کراہیت تنزیہی کے ساتھ ادا ہوگئی۔

دلائل:



سنن الدار قطنی:(باب قدر النجاسۃ التي تبطل الصلاۃ،رقم الحدیث:1679)
عن أبی ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي علیہ السلام قال: تعاد الصلاۃ من قدر الدراہم من الدم

الدرالمختارمع ردالمحتار:(316/1،ط:طبع الحلبي،بيروت)
(وعفا) الشارع (عن قدر ‌درهم) وإن كره ‌تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض... (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي.
وقال ابن عابدین: (قوله: وإن كره تحريما) أشار إلى أن العفو عنه بالنسبة إلى صحة الصلاة به، فلا ينافي الإثم .... ففي المحيط: يكره أن يصلي ومعه قدر درهم أو دونه من النجاسة عالما به لاختلاف الناس فيه.

الشامیۃ:(339/1،ط:دارالفکر)
ویجب أي یفرض غسلہ إن جاوز المخرج نجس مائع، ویعتبر القدر المانع للصلاۃ فیما وراء موضع الاستنجاء؛ لأن ما علی المخرج ساقط شرعاً وإن کثر، ولہٰذا لا تکرہ الصلاۃ معہ والحاصل: أن ما جاوز المخرج إن زاد علی الدرہم في نفسہ یفترض غسلہ اتفاقاً۔

الفتاوی الهندیة:(58/1،ط:مكتبة رشيدية)
"النجاسة إن كانت غليظةً وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات."

المبسوط للسرخسی:(60/1،ط:ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ)
"قلت: فَإِن أصَاب يَده بَوْل أَو دم أَو عذرة أَو خمر هَل ينْقض ذَلِك وضوءه؟ قَالَ: لَا وَلَكِن يغسل ذَلِك الْمَكَان الَّذِي أَصَابَهُ. قلت: فَإِن صلى بِهِ وَلم يغسلهُ؟ قَالَ: إِن كَانَ أَكثر من قدر الدِّرْهَم غسله وَأعَاد الصَّلَاة وَإِن كَانَ قدر الدِّرْهَم أَو أقل من قدر الدِّرْهَم لم يعد الصَّلَاة".

حاشية الطحطاوي:(440/1،ط:دارالكتب العلمية)
"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت وأما بعده فندباً".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.