عنوان: کرایہ پر لیا ہوا فلیٹ آگے کرایہ پر دینا(109086-No)

سوال: اَلسَلامُ عَلَيْكُم، مفتی صاحب ! کیا ایجنٹ سے ان شرائط پر فلیٹ کا معاہدہ کرنا جائز ہوگا: (1) اگلے 5 سال تک آپ کا فلیٹ ایجنٹ کرائے پر لے لے گا اور اس کو آگے ماہانہ یا روزانہ کے حساب سے آگے کرائے پر خود چڑھائے گا۔ (2) ضرورت پڑنے پر مرمت کا خرچہ بھی وہی کرے گا ۔ ایجنٹ اگلے 5 سال تک آپ کو قیمت خرید کا 6% سالانہ کے حساب سے ماہانہ قسطوں میں ادا کرے گا، چاہے فلیٹ میں کرائے دار ہو یا نہیں۔ (3) جو بھی اضافی آمدنی ہوگی، وہ ایجنٹ کی ملکیت ہوگی۔ (4) ایجنٹ مقررہ وقت اور رقم کی ادائیگی کا ذمہ دار ہوگا۔ (اس کے لیے ایجنٹ کے پاس انشورنس ہے، جو فلیٹ خالی رہ جانے کی صورت میں ادائیگی کرے گی) براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: باہمی رضامندی سے مذکورہ شرائط کے ساتھ کرایہ پر فلیٹ لینا جائز ہے، نیز کرایہ دار کیلئے اس فلیٹ کو آگے کرایہ پر دینا بھی جائز ہے، بشرطیکہ فلیٹ کا کرایہ اتنا ہی مقرر کیا جائے، جتنے پر خود لیا ہے۔
البتہ اگر کرایہ دار نے اپنی طرف سے فلیٹ میں کوئی اضافی کام (مثلاً رنگ و روغن، یا اس میں کوئی اضافہ یا دیگر تعمیراتی کام) کرایا ہو، تو پھر اصل کرایہ سے زیادہ پر دینا شرعا درست ہوگا۔

سوال کے آخر میں انشورنس والی بات واضح نہیں ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تاہم انشورنس کے سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ مروجہ انشورنس سود، غرر اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے، البتہ ضرورت پڑنے پر کسی ایسی تکافل کمپنی سے پالیسی لی جاسکتی ہے، جو مستند علماء کرام کی زیرنگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (91/6، ط: دار الفکر)
(قوله للمستأجر أن يؤجر المؤجر ) أي ما استأجره بمثل الأجرة الأولى أو بأنقص، فلو بأكثر تصدق بالفضل.

و فیه ایضا: (29/6، ط: دار الفکر)
ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا.
(قوله بخلاف الجنس) أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئا من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة. (قوله أو أصلح فيها شيئا) بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم؛ لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملا لأمره على الصلاح كما في المبسوط.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 156
karaya / rent per / par liya hua flat agey / agay karaya / rent per / par dena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.