عنوان: ضرورت مند شخص کا کسی اور کے نام پر پیسے لے کر خود استعمال کرنا (9088-No)

سوال: ایک آدمی کو پیسے کی ضرورت ہے، وہ اپنے جاننے والے سے اپنی ذات کے لئے مانگنے میں شرم محسوس کرتا ہے، اس لیے وہ اس کو کہتا ہے کہ ایک آدمی مجبور ہے، اس کو پیسوں کی ضرورت ہے، تم اس کے لئے پیسے بھیج دو، وہ آدمی پیسے بھیج دیتا ہے اور ان پیسوں کو وہ اپنی ضرورت میں استعمال کر لیتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب: جس شخص کے نام امداد کے لیے وہ پیسے لیے گئے ہیں، اس شخص ہی کو پہنچانا ضروری ہے، خود وہ پیسے رکھ لینا جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (269/2، ط: دار الفکر)
وھنا الوکیل إنما یستفید التصرف من الموٴکل وقد أمرہ بالدفع إلی فلان فلا یملک الدفع إلی غیرہ کما لو أوصی لزید بکذا لیس للوصي الدفع إلی غیرہ فتأمل.

الفتاوی التاتارخانیة: (229/3، ط: زکریا)
وفیھا - أي فی الیتیمة - سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال لہ: ” ھذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان“ ، فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، لہ التعیین.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 243
zarorat mand shakhs ka kisi or k / kay naam per / par pese / raqam le / lay kar khod estemal karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.