عنوان: جھینگا Prawns کھانے کا حکم(922-No)

سوال: مفتی صاحب ! جھینگا کھانا کیسا ہے؟

جواب: جھینگے(Prawns) کے حلال و حرام ھونے میں علمائے کرام کے درمیان اختلاف ہے، بعض علماء اس کے حلال ھونے کے قائل ہیں اور بعض حرام ھونے کے، اس اختلاف کی وجہ اس بات میں اختلاف ہے کہ جھینگا مچھلی کی اقسام میں سے ہے یا نہیں، تو جن فقہاء نے اسے مچھلی کی اقسام میں سے مانا ہے، وہ اس کا کھانا جائز قرار دیتے ہیں اور جو اسے مچھلی کی اقسام میں سے شمار نہیں کرتے، وہ اسے نا جائز قرار دیتے ہیں۔
مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا تفصیلی مقالہ اس پر موضوع تکلملہ فتح الملھم اور فقہی مقالات میں موجود ہے، جسکا خلاصہ یہاں درج کردیا جارہا ہے:
ُُ "جھینگا" کو تقریباً اردو عربی کے تمام ماہرین لغت مچھلی کے اقسام میں سے مانتے ہیں اور علامہ دمیری نے بھی حیاةالحیوان میں اسے مچھلی کے اقسام میں سے ہی شمار کیا ہے اور اس کا مچھلی کے اقسام میں سے ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حلال ہو، لیکن اس دور کے ماہرین علم حیوانات اسے مچھلی کے اقسام میں سے نہیں مانتے، بلکہ وہ اس کو کیکڑے کے اقسام میں سے مانتے ہیں، کیونکہ مچھلی کے اندر دو خاصیتیں ضرور ہوتی ہیں (1) گلپھڑوں سے سانس لے (2)اس میں ریڑھ کی ہڈی موجود ہو اور جھینگا میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں، اس لیے اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ناجائز ہو۔
لیکن لوگوں اور عرف عام میں اسے مچھلی ہی شمار کیا جاتا ہے اور شرعی معاملات میں جواز اور عدم جواز کے معاملے میں فنی باریکیوں سے زیادہ اہمیت عرف عام کی ہے، لہذا اس کا اعتبار کرتے ہوئے، اس کو مچھلی کے اقسام میں سے ہی شمار کیا جائے گا اور اس کے کھانے میں شدت اختیار کرتے ہوئے اس کے کے کھانے کو ناجائز قرار نہیں دیا جائے گا اور پھر جبکہ اس کے بارے میں علماء کا اجتہادی اختلاف بھی ہے، اسکا تقاضہ بھی یہی ہے کہ اس کے حکم میں تخفیف ہوجائے اور اس کے کھانے کو ناجائز قرار نہ دیا جائے، بلکہ کھانا جائز ہو۔
لہٰذا جھینگا کھانا جائز تو ہے، البتہ بہتر اور اولیٰ یہ ہوگا کہ جھینگا نہ کھایا جائے۔
تاہم جو کھا رہے ہیں، ان کو طعن و تشنیع نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کو منع کیا جائے اور جو نہیں کھا رہے ہیں، ان کو کھانے پر مجبور نہیں کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

مسند احمد: (214/5، ط: دار الحديث)
عن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلي الله عليه وسلم -: "أُحلَّت لنا مَيْتَتَان ودَمان, فأما الميتتان فالْحُوت والجراد، وأما الدمان فالكَبِد والطِّحال".

الدر المختار: (306/6، ط: دار الفكر)
(ولا) يحل (حيوان مائي إلا السمك) الذي مات بآفة ولو متولدا في ماء نجس ولو طافية مجروحة وهبانية (غير الطافي) على وجه الماء الذي مات حتف

بدائع الصنائع: (35/5، ط: دار الکتب العلمیۃ)
أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان محرم الأكل إلا السمك خاصة فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه

تکملۃ فتح الملھم: (315/3، ط: مکتبۃ دار العلوم کراتشی)
لكن خبراء علم الحيوان اليوم لا يعتبرونه سمكا ويذكرونه کوع مستقل ، ويقولون أنه من أسرة السرطان دون السمك ، وتعريف السمك عند علماء الحيوان ، على ما ذكر في دائرة المعارف البريطانية (٣٠٥/٩،ط: ۱۹۵۰م) : هو حيوان ذو عمود فقرى، يعيش في الماء ويسبح بعواماته ، ويتنفس بغلصمته".

واللہ تعالٰی علم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 2448 Feb 22, 2019
Jheenga khanay ka hukm, hukam, Jhinga, khane, Ruling on eating Prawns

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Halaal & Haram In Eatables

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.