عنوان: نیبولا ایپ (Nebula App) کے ذریعے پیسے کمانا (9236-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! آج کل نیبولا شاپنگ انٹرنیٹ ایپ مقبول ہوئی وی ہے، جس میں لوگ پیسے ڈالتے ہیں، اور دن کے پچاس آرڈر submit کرنے ہوتے ہیں، جس کے عوض کچھ پیسے کمیشن کے طور پر ملتے ہیں، اور وہ اکاؤنٹ میں بذریعہ ایزی پیسہ واپس ملتے ہیں، بہت لوگوں نے اس میں اسی طرح کی انویسٹمنٹ کی ہے، جس میں نقصان نہیں ہوتا، صرف منافع ملتا ہے۔ کیا ایسی ایپ میں پیسے ڈال کر کمائی کرنا جائز ہے؟

جواب: السلام علیکم، مفتی صاحب! آج کل نیبولا شاپنگ انٹرنیٹ ایپ مقبول ہوئی وی ہے، جس میں لوگ پیسے ڈالتے ہیں، اور دن کے پچاس آرڈر submit کرنے ہوتے ہیں، جس کے عوض کچھ پیسے کمیشن کے طور پر ملتے ہیں، اور وہ اکاؤنٹ میں بذریعہ ایزی پیسہ واپس ملتے ہیں۔
بہت لوگوں نے اس میں اسی طرح کی انویسٹمنٹ کی ہے، جس میں نقصان نہیں ہوتا، صرف منافع ملتا ہے۔ کیا ایسی ایپ میں پیسے ڈال کر کمائی کرنا جائز ہے؟
نیبولا ایپ (Nebula App) کے ذریعے پیسے کمانا
الجواب حامداً و مصلیا۔۔۔۔۔۔
نیبولا ایپ (Nebula App) کے مروجہ طریقہ کے مطابق پیسے کمانا درج ذیل وجوہات کی بنا پر جائز نہیں ہے:
1- اس میں اشتہارات کو کلک (Click) کرنے کی اجرت دی جاتی ہے، (جسے سوال میں 50 آرڈر submit کرنا اور اس کے عوض کمیشن ملنا کہا گیا ہے) جبکہ یہ کوئی ایسی منفعت نہیں کہ جس کی شرعی طور پر اجرت لی جاسکے۔
2- اشتہارات حاصل کرنے کیلئے جو رقم رکھوائی جاتی ہے، (جسے سوال میں کہا گیا کہ "اکاؤنٹ میں لوگ پیسے ڈالتے ہیں") اس رقم کی حیثیت قرض کی ہے، اس قرض کے عوض اشتہارات پر کلک کرنے کا حق حاصل کیا جاتا ہے، (جوکہ اجارے کا حق ہے) اگر یہ رقم بطور قرض نہ رکھوائی جاتی، تو یہ حق بھی نہ ملتا، اور قرض کی بنیاد پر کوئی منفعت حاصل کرنا سود میں داخل ہے۔
مذکورہ وجوہات کی بناء پر اس میں رقم رکھوانا، اشتہارات کلک کرکے اس کی اجرت لینا اور اس کام کیلئے کسی کو ممبر بناکر اس کی اجرت لینا شرعا جائز نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔
کذا فی فتاوی جامعۃ الرشید: (رقم الفتوی 75053/61)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

السنن الکبری للبیہقي: (باب کل قرض جر منفعة فھو ربا، رقم الحدیث: 11092)
عن فضالۃ بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: کل قرض جر منفعۃ فہو وجہ من وجوہ الربا

الدر المختار مع رد المحتار: (4/6، ط: زکریا)
و شرعا (تملیک نفع) مقصود من العین (بعوض) حتی لواستاجر ثیاباً اواوانی لیتجمل بہا اودابۃ لیجنبہا بین یدیہ اوداراً لایسکنہا اوعبداً اودراہم اوغیر ذالک لایستعملہ بل لیظن الناس انہ لہٗ فالاجارۃ فاسدۃفی الکل ولااجرلہٗ لانہا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین۔
قولہ: (مقصود ۃ من العین) ای فی الشرع ونظر العقلا ء بخلاف ماسیذکرہ فانہ وان کان مقصوداً للمستاجر لکنہ لانفع فیہ ولیس من المقاصد الشرعیۃ

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 371
nebula app k / kay zarye pese / raqam kamana

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.