عنوان: سونے کی گزشتہ 14 سالوں کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ(9248-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک عورت کے پاس دس تولہ سونا ہے، اور 2008 سے لے کر اب تک کی اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی، برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں کہ کس طرح پچھلے سالوں کی زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ صاحب نصاب بن جانے کے بعد اگر زکوة ادا نہیں کی، تو گزشتہ سالوں کی زکوة بھی ادا کرنا واجب ہے، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت سونے کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے پہلے ایک سال کی زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے، اور ایک سال کی زکوۃ ادا کی جائے، پھر پہلے سال کی زکوۃ کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچے، اور وہ نصاب تک پہنچے، تو دوسرے سال کی اس مال سے زکوٰۃ نکالی جائے گی، اسی طرح دوسرے سال کی زکوة منہا کرنے کے بعد اگر بقیہ رقم نصاب تک پہنچے، تو تیسرے سال کی اس مال سے زکوة ادا کی جائے گی، اسی طرح جتنے سالوں کی زکوة ادا نہیں کی، ان کا حساب اس طریقہ پر کیا جائے گا۔
اگر چند سالوں کی زکوۃ نکالنے کے بعد سونے کی قیمت نصاب سے کم رہ جائے، تو پھر اس کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا۔
البتہ اگر اس صورت پر کسی کیلئے عمل مشکل ہو، یعنی سونے کی موجودہ قیمت کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنے کی صورت میں زکوٰۃ کی مقدار اتنی زیادہ بنتی ہو کہ اس کی ادائیگی کی صورت میں سخت مشکل اور تنگی پیش ہو، تو پچھلے جس سال کی زکوۃ کی ادائیگی اس پر باقی ہے، اُسی سال کی قیمت کے حساب سے بھی اِن زیورات کی زکوۃ ادا کرنے کی گنجائش ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (181/1، ط: دار الفکر)
رجل له ألف درهم لا مال له غيرها استأجر بها دارا عشر سنين لكل سنة مائة فدفع الألف، ولم يسكنها حتى مضت السنون والدار في يد الآخر يزكي الآجر في السنة الأولى عن تسعمائة، وفي الثانية عن ثمانمائة إلا زكاة السنة الأولى ثم سقط لكل سنة زكاة مائة أخرى، وما وجب عليه بالسنين الماضية.

الدر المختار مع رد المحتار: (286/2، ط: دار الفکر)
وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء.

درر الحكام شرح غرر الاحكام: (181/1، ط: دار احیاء الکتب العربیة)
وَالْخِلَافُ فِي زَكَاةِ الْمَالِ فَتُعْتَبَرُ الْقِيمَةُ وَقْتَ الْأَدَاءِ فِي زَكَاةِ الْمَالِ عَلَى قَوْلِهِمَا وَهُوَ الْأَظْهَرُ وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ يَوْمَ الْوُجُوبِ كَمَا فِي الْبُرْهَانِ وَقَالَ الْكَمَالُ وَالْخِلَافُ مَبْنِيٌّ عَلَى أَنَّ الْوَاجِبَ عِنْدَهُمَا جُزْءٌ مِنْ الْعَيْنِ وَلَهُ وِلَايَةُ مَنْعِهَا إلَى الْقِيمَةِ فَيُعْتَبَرُ يَوْمَ الْمَنْعِ كَمَا فِي مَنْعِ رَدِّ الْوَدِيعَةِ وَعِنْدَهُ، الْوَاجِبُ أَحَدُهُمَا ابْتِدَاءً وَلِذَا يُجْبَرُ الْمُصَدِّقُ عَلَى قَبُولِهَا اه.

کذا فی تبویب فتاویٰ دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: 24/1665

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 142
soney / gold ki guzishta choda / 14 saalo / years ki zakat nikalney ka tariqa

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.