عنوان: کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کے متعلق پروگرام بنانے کا شرعی حکم (9317-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کیا کوئی کمپیوٹر پروگرامر کے لئے ایسا پروگرام بنانا جائز ہے جس میں کریڈٹ کارڈ سے رقم لینے والا ایک مخصوص مدت کے اندر رقم واپس کر دے، تو اضافی رقم نہیں دینی پڑتی، مگر اس مدت کے بعد سود محسوب ہوتا ہے، نیز اگر کریڈٹ کارڈ لینے والے مسلمانوں کیلئے ایسا پروگرام بنانا جائز نہ ہو، تو کیا غیر مسلموں کے لیے یہ پروگرام بنانا جائز ہے؟

جواب: واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ کے معاہدے میں ایک سودی شق شامل ہوتی ہے کہ اگر وقت پر ادائیگی نہ کی گئی، تو جرمانہ دینا پڑے گا، جو کہ شرعا سود میں داخل ہے، اگرچہ مجبوری کی صورت میں کریڈٹ کارڈ کے استعمال کی گنجائش دی جاتی ہے، بشرطیکہ سود لگنے کی نوبت نہ آئے، لیکن چونکہ اس کی بنیاد میں سودی معاہدے پر ایک طرح سے رضامندی پائی جاتی ہے، اس لئے اس پر توبہ و استغفار بھی لازم ہے۔
جہاں تک کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم وصول کرنے سے متعلق کوئی پروگرام/سوفٹ ویئر بناکر دینے کا تعلق ہے، تو چونکہ اس کا ایک جائز استعمال بھی ممکن ہے، تاہم تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں اس کے ذریعے سود کا حساب کتاب بھی کیا جاسکتا ہے، لہذا ایسا پروگرام بنانے سے اجنتاب کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

فقه البیوع: (193/1، ط: مکتبه دار العلوم کراتشی)
وان کان سببا بعیدا بحیث لا یفضی الی المعصیۃ علی حالتھا الموجودۃ بل یحتاج الی احداث صنعۃ فیہ کبیع الحدید من أھل الفتنۃ وأمثالھا، فتکرہ تنزیھا۔

و فیه أیضا: (194/1، ط: مکتبه دار العلوم کراتشی)
وکذلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر) لبنک ربوی، فان قصد بذلک الاعانۃ او کان البرنامج مشتملا علی ما لا یصلح الا فی الأعمال الربویۃ، أو الأعمال المحرمۃ الأخری، فان العقد حرام وباطل۔ أما اذا لم یقصد الاعانۃ ولیس فی البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ صح العقد وکرہ تنزیھا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 142
credit card se / say adaigi / adaige k / kay mutaliq program banane / bananey ka shari / sharai hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.