عنوان: جس پلاٹ کے بارے میں مالک کی نیت بیچنے کی نہ رہے، اس کی زکوۃ کا حکم/ صاحب نصاب چودہ سالہ لڑکی کے مال پر زکوۃ کا حکم (9351-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میرے دوست کا ایک پلاٹ ہے، جس کے بارے میں اسکی نیت کبھی بیچنے کی ہوجاتی ہے، کبھی بنانے کا سوچنا شروع کر دیتا ہے، اور کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اپنی بیٹی کو ھبه کردے، اس صورت میں زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟ نیز بیٹی اگر صاحب نصاب ہو، تو کیا بیٹی پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ بیٹی کی عمر 14 سال ہے۔

جواب: 1) سوال میں ذکر کردہ صورت میں چونکہ آپ کی تجارت کی نیت حتمی طور پر متعین نہیں ہے، بلکہ اس میں دوسری نیتوں کا بھی احتمال ہے، لہذا اس پلاٹ پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔
2) سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر یہ لڑکی بالغہ ہے، تو صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے اس کے مال پر زکوۃ واجب ہے، بصورت دیگر واجب نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

فتح القدير: (178/2، ط: دار الکتب العلمیة)
ومن اشترى جاريةً للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة)؛ لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة)؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر".

بدائع الصنائع: (فصل شرائط فرضية الزكاة، 4/2، ط: دار الكتب العلمية)
ومن أصحابنا من بنى المسألة على أصل وهو أن الزكاة عبادة عندنا، والصبي ليس من أهل وجوب العبادة فلا تجب عليه كما لا يجب عليه الصوم والصلاة۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 170

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.