عنوان: اگر پلاٹ اس نیت سے خریدا کہ اس کو فروخت کرکے اس کی رقم سے رہائش کے لیے گھر بنائیں گے، ایسے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم(9368-No)

سوال: میں کرائے کے مکان مین رہتا ہوں، اپنا ذاتی گھر نہیں ہے، ایک عدد پلاٹ خریدا ہے، مگر گھر کی تعمیر کیلئے رقم نہیں ہے، اسلئے ایک اور پلاٹ قسطوں پر لیا ہے اور اس کی ڈاون پیمنٹ دی ہے، دونوں پلاٹوں کی مجموعی رقم مبلغ دس لاکھ روپے بنتی ہے، جس پر مکان کی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی، ارادہ ہے کہ جب ایک پلاٹ کی قسطیں پوری ہوں، تو پھر دوسرا پلاٹ فروخت کرکے گھر کی ضرورت پوری کروں۔ ایسی صورت میں مجھ پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں جو پلاٹ آپ نے گھر کی تعمیر کے لیے خریدا ہے، اس پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔
البتہ جو پلاٹ آگے فروخت کرنے کی نیت سے خریدا ہے اور وہ اپنی قیمت کے حساب سے نصاب کو پہنچتا ہے، تو سال پورا ہونے پر پلاٹ کی موجودہ قیمتِ فروخت کا ڈھائی فیصد بطورِ زکوٰۃ اداکرنا لازم ہوگا، البتہ واجب الاداء اقساط میں سے جن قسطوں کی ادائیگی زکوۃ کے رواں سال میں واجب ہوگئی تھی، وہ کل رقم سے منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم کی زکوۃ ادا کی جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهداية: (103/1، ط: دار احياء التراث العربي)
الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق أو الذهب "لقوله عليه الصلاة والسلام فيها " يقومها فيؤدي من كل مائتي درهم خمسة دراهم " ولأنها معدة للاستنماء بإعداد العبد فأشبه المعد بإعداد الشرع وتشترط نية التجارة ليثبت الإعداد.

فتح القدير: (178/2، ط: دار الکتب العلمیة)
ومن اشترى جاريةً للتجارة ونواها للخدمة بطلت عنها الزكاة)؛ لاتصال النية بالعمل وهو ترك التجارة، (وإن نواها للتجارة بعد ذلك لم تكن للتجارة حتى يبيعها فيكون في ثمنها زكاة)؛ لأن النية لم تتصل بالعمل إذ هو لم يتجر فلم تعتبر".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 462
agar plot is niat / niyat se / say kharida keh us ko farokht / sale kar k / kay us ki raqam se / say rihaish / rihayesh k / kay liye ghar banainge, ese plot per / par zakat ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.