عنوان: انعام کا وعدہ کرکے نہ دینے کا حکم (9381-No)

سوال: کسی کام کرنے پر انعام دینے کا کہا، مگر کام کرنے کے بعد انعام نہیں دیا، تو کیا انعام نہ دینے پر کہنے والا شخص گناہ گار ہوگا؟ مثلاً:
1۔ کمپنی کے ملازم سے کہا کہ یہ کام کردو، تو میں تمہیں سیلری کے علاوہ انعام دوں گا۔
2۔ باپ نے بیٹے سے کہا کہ میٹرک میں A+ grade لے آؤ، تو دس ہزار انعام دوں گا، مگر جب بچہ A+ grade لے آئے، اور والد انعام نہ دے، تو کیا والد پر گناہ ہوگا؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: واضح رہے کہ اپنے ماتحتوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی اچھی کارکردگی پر انعام دینا ایک اچھی صفت ہے، خود جناب رسول اللہ ﷺ نے بعض مواقع پر مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے، اور جنگ کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جذبے اور شوق کو بڑھانے کے لیے انعام کا اعلان بھی فرمایا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا ہے کہ انعام کا اعلان کرنا جائز ہے اور یہ اعلان ایک وعدہ ہے، لہذا جب کمپنی کے مالک نے ملازم کے کسی کام پر انعام دینے کا کہا ہے یا والد نے اپنے بیٹے کو امتحان میں اچھے نمبرات لینے پر انعام کا کہا ہے، تو اس وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے اور وعدے کو پورا نہ کرنا منافق کی نشانیوں میں سے ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرے، تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے، تو خلاف ورزی کرے اور جب اسے امانت سونپی جائے، تو خیانت کرے"۔
(بخاری،حدیث نمبر:33)
لہذا انعام کا وعدہ کرکے نہ دینے میں جھوٹ بولنے اور وعدہ توڑنے کا گناہ لازم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحیح البخاری: (رقم الحدیث: 33، ط: دار طوق النجاۃ)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان "

تفسیر القرطبی: (232/9، ط: دار الکتب المصریة)
قال بعض العلماء: في هذه الآية دليلان: أحدهما- جواز الجعل وقد أجيز للضرورة، فإنه يجوز فيه من الجهالة ما لا يجوز في غيره، فإذا قال الرجل: من فعل كذا فله كذا صح. وشأن الجعل أن يكون أحد الطرفين معلوما والآخر مجهولا للضرورة إليه، بخلاف الإجارة، فإنه يتقدر فيها العوض والمعوض من الجهتين، وهو من العقود الجائزة التي يجوز لأحدهما فسخه، إلا أن المجعول له يجوز أن يفسخه قبل الشروع وبعده، إذا رضي بإسقاط حقه، وليس للجاعل أن يفسخه إذا شرع المجعول له في العمل. ولا يشترط في عقد الجعل حضور المتعاقدين، كسائر العقود، لقوله:" ولمن جاء به حمل بعير"

سنن الترمذى:(رقم الحديث: 3795، ط: شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي الحلبي)
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نعم الرجل أبو بكر، نعم الرجل عمر، نعم الرجل أبو عبيدة بن الجراح، نعم الرجل أسيد بن حضير، - نعم الرجل ثابت بن قيس بن شماس، نعم الرجل معاذ بن جبل، نعم الرجل معاذ بن عمرو بن الجموح»: " هذا حديث حسن إنما نعرفه من حديث سهيل.

سنن الدارمى: (رقم الحديث: 2527، ط: دار المغني)
عن أنس بن مالك، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من قتل كافرا فله سلبه فقتل أبو طلحة: يومئذ عشرين، وأخذ أسلابهم.

الموسوعة الفقھیة الکویتیة: (77/44، ط: دار السلاسل)
قال الحنفية: الخلف في الوعد حرام إذا وعد وفي نيته أن لا يفي بما وعد، أما إذا وعد وفي نيته أن يفي بما وعد فلم يف، فلا إثم عليه.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 152
inam / inaam ka wada / promise karke / karkey na dene ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Business & Financial

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.