عنوان: والده كے علاج كے لیے بھیجی ہوئی رقم میں سے بچ جانے والی رقم کا حکم(9388-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! بچوں نے اپنی بیمار والدہ کے علاج کے لیے بہت سی رقم بھیجی، مگر والدہ کا انتقال ہوگیا، اور یہ رقم باقی رہ گئی، تو کیا یہ بچی ہوئی رقم والدہ کی میراث ہوگی یا جس کی تھی، اسی کو ملے گی؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: اگر بچوں نے یہ رقم والدہ کو مالک بنا کر ہدیہ کےارادے سے نہیں بھیجی تھی، بلکہ صرف اس سوچ کے ساتھ بھیجی تھی کہ جو رقم علاج پر خرچ ہوگی، اس کے علاوہ رقم واپس لے لیں گے، ایسی صورت میں والدہ اس رقم کی مالک نہیں بنی، بلکہ یہ رقم بدستور بھیجنے والوں کی ہی ملکیت ہے، لہٰذا اس بچی ہوئی رقم میں والدہ کی میراث جاری نہیں ہوگی۔
لیکن اگر بچوں نے یہ رقم والدہ کو مالک بنا کر بھیجی تھی، اور والدہ نے یا ان کے حکم سے کسی اور نے اس رقم کو اپنے قبضہ میں لے لیا تھا، تو یہ رقم والدہ کی مملوک ہوگئی تھی، اس صورت میں اس رقم کے اندر وراثت کے احکام جاری ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (687/5، ط: الحلبي)

(هي تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه، وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين ... (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك، وأن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 109
walda / walida k / kay ilaj / elaaj k / kay liye bheji hui raqam me / mein se / say bach jane / janey wali raqam ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.