عنوان: بیس سال پرانا دین کس حساب سے لوٹایا جائے؟ (9392-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! ایک شخص کے ذمے بیس سال پہلے 2500 ہزار روپے تھے، کسی وجہ سے وہ شخص اس رقم کو ادا نہ کرسکا ہو، اور اب وہ ان پیسوں کو لوٹانا چاہتا ہو، ظاہر ہے پیسوں کی ویلیو بیس سال بعد کم ہوگئی ہے، تو اب کتنے پیسے ادا کرے گا؟

جواب: قرض کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض لیا جائے، اتنی ہی مقدار قرض دار پر واپس کرنا لازم ہے، چاہے کتنے عرصے بعد ہی واپسی کیوں نہ ہو، کیونکہ قرض میں دی گئی رقم کی مالیت گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے۔
چنانچہ شریعت مطہرہ کا مسلمہ اصول ہے کہ ’’الدیون تقضیٰ بأمثالها‘‘ یعنی قرضوں کی واپسی ان قرضوں کے مثل (برابر) سے ہی ہوگی۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں دائن کے ذمہ صرف 2500 روپے واجب الاداء ہیں، دائن کا اس سے زائد مطالبہ کرنا درست نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار: (868/3، ط: سعید)
الدیون تُقضی بأمثالہا۔

بحوث فی قضایا معاصرۃ: (ص: 174، ط: مکتبة دار العلوم کراتشی)
والذي یتحقق في النظر في دلائل القرآن والسنۃ ومشاہدۃ معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 176
bees / 20 saal / years purana dein / dain kis hisab se / say lotaya jai?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Loan, Interest, Gambling & Insurance

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.