عنوان: زکوۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنا(9420-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میری شادی 14 دسمبر 2018ء کو ہوئی تھی، میں اب تک دو مرتبہ زکوٰۃ نکال چکی ہوں، مگر وقت کے حساب سے یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ کس سال کے حساب سے نکالی تھی، آیا 2018-2019 یا 2019-2020 یا پھر 2020-2021، بس اتنا معلوم ہے کہ دو لازمی نکال چکی ہوں، میں اپنی ڈائری میں وقت لکھنا بھول گئی تھی، مجھ پر اب دو زکوٰۃ واجب الادا ہیں، جو کہ میں ان شاء اللہ اس رمضان المبارک میں ادا کردوں گی، وقت پر زکوٰۃ نہ نکالنے کی وجہ سے مجھ پر کچھ کفارہ ہوگا؟ براہ کرم جلد جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: زکوۃ ایک اہم فریضہ ہے، جسے حتی الامکان جلد از جلد ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے، بلا وجہ اس میں تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے۔
نیز ہر سال کی زکوۃ اسی سال ادا کردینی چاہئیے، ایک سال کی زکوۃ کو بلاوجہ اگلے سال زکوۃ کے واجب ہونے تک موخر کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے، آئندہ اس سے احتیاط کرنی چاہئیے، تاہم تاخیر سے ادا کرنے کی وجہ سے توبہ و استغفار کرنی چاہیے، البتہ اس بناء پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

المحیط البرھانی: (239/2، ط: دار الکتب العلمیة)

ذکر ابو الحسن الکرخی رحمہ اللہ فی کتابہ انھا علی الفور، وذکر الحاکم الشھید فی المنتقی انھا علی الفور عند ابی یوسف ومحمد رحمھما اللہ ..... وقال ابوبکر الرازی رحمہ اللہ انھا تجب علی التراخی، وھکذا روی ابن شجاع والبلخی عن اصحابنا. قال البلخی رحمہ اللہ وکذلک الحج، وھذا لانہ لیس فی کتاب اللہ تعالیٰ وما فی سنۃ رسولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیان وقت اداء الزکوۃ ولا یمکن اتیانہ قیاسا.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 191

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.