عنوان: 13 سال بعد مرحوم والد کے کاروبار کی تقسیم ہو، تو کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟(109441-No)

سوال: 1982 میں تین بھائیوں نے 10000 روپے فی حصہ کے حساب سے 30000 روپے کا کاروبار شروع کیا، جس کا کوئی تحریری اقرار نامہ یا ثبوت نہیں تھا، بس پیار، محبت اور اتفاق میں کام شروع کیا گیا، 1991 میں ایک بھائی کی وفات ہوگئی، ان کا حصہ ان کے ورثاء وصول کرتے رہے، 1992 میں ایک بھائی کے بیٹے نے کاروبار میں اپنی خدمت شروع کی، 1992 سے 1998 تک بیٹے کی خدمت کی اجرت اس کے والد کے پاس ہوتی تھی، جو مذکورہ کاروبار میں ⅓ حصہ کے شریک تھے۔ 1998 میں کاروباری اور قانونی ذمہ داریاں ہونے کی وجہ سے بیٹے نے کاروبار میں اپنا ذاتی حصہ دار ہونے کا اظہار کیا، جس پر فوت شدہ بھائی کے ورثاء سے ⅓ حصہ والد نے خرید کر بیٹے کے نام کر دیا، اس حصہ کی رقم بعد میں والد نے اپنے بیٹے سے وصول کرلی۔ 1999 میں تیسرے حصہ دار بھائی انتقال کر گئے، جن کا حصہ ان کے ورثاء وصول کرتے رہے۔ 2008 تک کاروبار کے منافع کی رقم برابر تقسیم ہوتی رہی، 2009 میں بیمار ہونے کی وجہ سے والد نے اپنے بیٹے سے اپنا ذاتی حصہ طلب کیا کہ میں نے اپنا تمام حصہ مسجد میں دینا ہے، جس پر بیٹے نے جواب دیا کہ آپ نے اپنے حصہ کی رقم مجھے نہیں، بلکہ اپنے بھائیوں کو دی تھی۔ اس پر وہ خاموش ہوگئے، کیونکہ اس کا کوئی تحریری و قانونی ثبوت ان کے پاس نہ تھا، اس وقت تمام کاروباری اور قانونی ذمہ داریاں اس بیٹے کے نام پر تھیں۔ 2009 میں والد صاحب کی وفات کے بعد یہ حصہ کسی بھی وارث کی رضامندی سے کاروبار میں شامل نہیں تھا، بلکہ وقتاً فوقتاً دبی زبان میں طلب کرتے تھے، لیکن کیونکہ کوئی تحریری ثبوت نہ تھا، اس لیے قانوناً رقم وصول نہیں کر سکتے تھے۔ 2022 میں اب بیٹا باقی ورثاء کو والد صاحب کا حصہ دینے پر رضامند ہے۔ احکامِ شرعیہ کی روشنی میں جواب صادر فرمائیں کہ والد صاحب کے وفات کے وقت کی رقم ورثاء میں تقسیم ہوگی یا موجودہ رقم تقسیم ہوگی؟

جواب: کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے کل ترکہ میں اس کے تمام ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہے اور وہ سب اس میں اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے شریک ہوجاتے ہیں، پس والد صاحب کا کاروبار میں جو ایک تہائی (1/3) حصہ تھا، وہ حصہ اب تک کے منافع سمیت موجودہ قیمت کے اعتبار سے والد مرحوم کے شرعی ورثاء میں شریعت کے قانون کے مطابق تقسیم ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

عمدۃ القاری: (229/23، ط: دار احیاء التراث العربی)
المواريث فرائض وفروضا لما أنها مقدرات لأصحابها ومبينات في كتاب الله تعالى ومقطوعات لا تجوز الزيادة عليها ولا النقصان منها۔

رد المحتار: (کتاب الشرکة، فصل فی الشرکة الفاسدۃ، 325/4، ط: سعید)
"لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اه".

و فیه ایضاً: (کتاب الشرکة، مطلب فیما یقع کثیرا فی الفلاحین مما صورته شركة مفاوضة، 307/4، ط: سعید)
"[تنبيه] يقع كثيراً في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارةً يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لاتصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافاً لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له، بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.
ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحداً ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركاً بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرةً وصواباً كما أفتى به في الخيرية، وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك، وكل ما استدانه أحدهم يطالب به وحده".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 69
tera / 13 / thirteen saal / years bad marhom walid k / kay karobar / business ki taqseem ho to kis qimat / qeemat ka eatibar / itebar hoga?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.