عنوان: زکوٰۃ کا حساب لگانے سے پہلے یوٹیلیٹی بلز کی رقم منہا کرنا (9468-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! اگر زکوٰۃ کا حساب لگانے کا دن آجائے یعنی نصاب کا سال پورا ہو جائے، مگر ماہانہ اخراجات نکالنا باقی ہو، جیسے: بجلی گیس کے بل یا اسکول کی فیس وغیرہ، تو کیا پہلے ان چیزوں کو ادا کر کے بقیہ نقدی کا حساب لگایا جائے گا یا پہلے حساب لگا کے زکوٰۃ نکال کر پھر ان اخراجات کو بقیہ پیسوں سے ادا کیا جائے گا؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے ذمہ کوئی رقم واجب الادا ہو یا یوٹیلیٹی بل ادا کرنا باقی ہو، تو زکوٰۃ کا حساب لگانے سے پہلے اس رقم کو کل مال سے منہا کیا جائے گا، پھر جو رقم باقی بچے گی، اس کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ کے طور پر ادا کیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

رد المحتار: (262/2، ط: سعید)

(قَوْلُهُ: وَفَارِغٍ عَنْ حَاجَتِهِ الْأَصْلِيَّةِ) أَشَارَ إلَى أَنَّهُ مَعْطُوفٌ عَلَى قَوْلِهِ عَنْ دَيْنٍ (قَوْلُهُ وَفَسَّرَهُ ابْنُ مَلَكٍ) أَيْ فَسَّرَ الْمَشْغُولَ بِالْحَاجَةِ الْأَصْلِيَّةِ وَالْأَوْلَى فَسَّرَهَا، وَذَلِكَ حَيْثُ قَالَ: وَهِيَ مَا يَدْفَعُ الْهَلَاكَ عَنْ الْإِنْسَانِ تَحْقِيقًا كَالنَّفَقَةِ وَدُورِ السُّكْنَى وَآلَاتِ الْحَرْبِ وَالثِّيَابِ الْمُحْتَاجِ إلَيْهَا لِدَفْعِ الْحَرِّ أَوْ الْبَرْدِ أَوْ تَقْدِيرًا كَالدَّيْنِ، فَإِنَّ الْمَدْيُونَ مُحْتَاجٌ إلَى قَضَائِهِ بِمَا فِي يَدِهِ مِنْ النِّصَابِ دَفْعًا عَنْ نَفْسِهِ الْحَبْسَ الَّذِي هُوَ كَالْهَلَاكِ وَكَآلَاتِ الْحِرْفَةِ وَأَثَاثِ الْمَنْزِلِ وَدَوَابِّ الرُّكُوبِ وَكُتُبِ الْعِلْمِ لِأَهْلِهَا فَإِنَّ الْجَهْلَ عِنْدَهُمْ كَالْهَلَاک۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 97
zakat ka hisab lagane / laganey se / say pehle / pehley utility bills ki raqam minha karna

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.