عنوان: عورت کا بڑھی ہوئی بھنویں بنوانے کا حکم(9556-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میری بھنویں گھنی ہیں، اوپر والے حصے سے کچھ بال بڑھ جاتے ہیں، جو اپنی موجودہ بناوٹ سے زائد ہوتے ہیں، پھر بھنویں مزید پھیل جاتی ہیں، اور کچھ بال دونوں بھنوؤں کے درمیان کی کشادگی میں بھی اوپر آجاتے ہیں، یعنی درمیان والے حصے پر بھی دونوں اطراف سے تھوڑے بڑھتے ہیں، ان درمیان والے بالوں اور اوپر کی بھنوؤں کی بناوٹ سے مزید اوپر زائد بڑھی نوکیں بالکل کونے سے میں کاٹ دیتی ہوں، میرے میاں گھنی بھنوؤں کو پسند نہیں کرتے، اور تاکیدا کہتے ہیں ٹھیک کرو! اور حال یہ ہے کہ میں بہت بے چین ہوں کہ میرا ایسا کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ آپ براہ کرم ایسا جواب دیجئے کہ مجھے تسلی ہو، شرح صدر ہو، اور کبھی دوبارہ سوال کی ضرورت نہ پڑے، اللہ پاک آپکا دنیا وآخرت میں حامی و ناصر ہو۔ آمین

جواب: اگر کسی عورت کے چہرے پر غیر معمولی بال اگ آئیں، جن سے اس عورت کے شوہر کو ناگواری ہونے لگے، تو ان بالوں کو صاف کرانا جائز ہے، بلکہ اپنے شوہروں کے لیے زینت اختیار کرنے کی نیت سے مستحب ہے۔
لہذا اگر بھنویں حد سے زیادہ پھیل جائیں، تو انہیں تراش کر عام حالت کے مطابق بنانا جائز ہے۔
تاہم اس میں مبالغہ کرنا ممنوع ہے، اس لیے کہ بلا ضرورت اپنی بھنویں باریک کرنے والی عورت پر حدیث شریف میں لعنت وارد ہوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

سنن الترمذي: (باب مَا جَاءَ فِي الْوَاصِلَةِ وَ الْمُسْتَوْصِلَةِ وَ الْوَاشِمَةِ وَ الْمُسْتَوْشِمَةِ، رقم الحديث: 2782)
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا عبيدة بن حميد، عن منصور، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم: " لعن الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، مبتغيات للحسن مغيرات خلق الله "، قال: هذا حديث حسن صحيح، وقد رواه شعبة، وغير واحد من الائمة، عن منصور.

سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 4170، ط: المكتبة العصرية)
قال أبو داود: " وتفسير الواصلة التي ‏تصل الشعر بشعر النساء والمستوصلة المعمول بها ، والنامصة التي تنقش الحاجب حتى ترقه، ‏والمتنمصة المعمول بها.‏ والواشمة التي تجعل الخيلان (جمع خال) في وجهها بكحل أو مداد والمستوشمة المعمول بها.‏

فتح الباري لابن حجر: (377/10، ط: دار المعرفة)
"والمتنمصة التي تطلب النماص والنامصة التي تفعله ، والنماص: إزالة ‏شعر الوجه بالمنقاش، ويسمى المنقاش منماصاً لذلك، ويقال إن النماص يختص بإزالة شعر ‏الحاجبين لترقيقهما وتسويتهما".
ثم نقل تفسير أبي داود المتقدم للنماص.‏

رد المحتار: (373/6، ط: سعید)
"ذكره في الاختيار أيضا والمغرب: النمص: نتف الشعر ومنه المنماص، المنقاش، لعله محمول على ما إذا فعلته للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبةللتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء ، وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت لامرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب".

و فيه أيضا: (288/5)
"ولا بأس بأخذ الحاجبين و شعر وجهه ما لم يشبه المخنث، تاتارخانية".

والله تعالى أعلم بالصواب
دارالإفتاء الإخلاص،كراچی

Print Full Screen Views: 514
orat / lady / women / aurat ka barhi hui bhawain banane / banwane ka hokum / hokom

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Women's Issues

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2023.