عنوان: علماء کو گالی دینے سے نکاح ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا حکم (9598-No)

سوال: السلام علیکم، اللہ پاک سے امید ہے کہ سب خیریت سے ہوں گے، مجھے ایک مسئلہ کے بارے میں آپ لوگوں کی رہنمائی درکار ہے، اکثر لوگوں سے سنتے آ رہے ہیں اور علمائے کرام کے بیانات میں بھی یہ بات ہم سنتے ہیں کہ بلاوجہ کسی بھی عالم دین کو گالی دینے سے اس انسان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، کسی بھی عالم دین سے صرف اس لئے اوپر بیٹھنا کہ میں اس سے افضل ہوں، لوگوں کی نظر میں اس کی اہمیت کو کم کرنا اور اپنا بڑھانا۔
1۔۔ کیا اس طرح کرنے سے انسان گناہگار ہوتا ہے؟
2۔۔ کیا اس سے اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ کچھ علماء کے کام بظاہر ٹھیک نہیں لگتے، جس کی وجہ سے انہیں گالی پڑتی ہے، تو کیا انہیں گالی دینے والا بھی کافر ہے؟

جواب: (1) کسی بھی مسلمان کو گالی دینا سخت گناہ اور موجبِ فسق ہے، صحيح بخاری کی حدیث میں ہے، حضورﷺ نے فرمایا: "مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے قتل و قتال کرنا کفر ہے"۔
علمائے کرام حضراتِ انبیاء علیہم السلام کے علمی وارث ہیں، اس لیے ان کو برا بھلا کہنا اور ان سے بغض رکھنا بہت بڑا گناہ ہے، جس سے احتراز کرنا ضروری ہے۔
(2) علماء کو گالی دینے سے کافر ہوجانے اور نکاح ٹوٹنے میں تفصیل ہے، اور وہ یہ کہ اگر کسی عالم دین کو بغیر کسی ظاہری سبب کے محض اس لیے گالی دی جائے کہ اس کا تعلق دین اور علمِ دین کے ساتھ ہے، تو اس عمل سے گالی دینے والا شخص دائرہ ایمان سے نکل جاتا ہے، اور اس کا نکاح بھی ٓ ٹوٹ جاتا ہے، ایسی صورت میں توبہ کرکے تجدیدِ ایمان کے بعد دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔
لیکن اگر خدانخواستہ کسی عالمِ دین کے کچھ افکار یا اعمال واضح طور پر دینِ اسلام کی واضح تعلیمات کے خلاف ہوں، اور ان غلط افکار یا اعمال کی وجہ سے یا اپنی کسی ذاتی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے اگر کوئی انہیں برا بھلا کہتا ہے، تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا،اور اس کا نکاح بھی نہیں ٹوٹے گا، تاہم گالی دینا بُرا اور ناجائز فعل ہے، جس سے ہر حال میں احتراز کرنا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

صحيح البخاري: (رقم الحدیث: 7076، ط: السلطانیة)
حدثنا ‌عمر بن حفص، حدثني ‌أبي، حدثنا ‌الأعمش، حدثنا ‌شقيق قال: قال ‌عبد الله : قال النبي صلى الله عليه وسلم: سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر.

مجمع الأنهر: (695/1، ط: دار إحياء التراث العربي)
(الرابع في ‌الاستخفاف بالعلم) وفي البزازية فالاستخفاف ‌بالعلماء لكونهم علماء استخفاف بالعلم والعلم صفة الله تعالى منحه فضلا على خيار عباده ليدلوا خلقه على شريعته نيابة عن رسله فاستخفافه بهذا يعلم أنه إلى من يعود فإن افتخر سلطان عادل بأنه ظل الله تعالى على خلقه يقول العلماء بلطف الله اتصفنا بصفته بنفس العلم فكيف إذا اقترن به العمل الملك عليك لولا عدلك فأين المتصف بصفته من الذين إذا عدلوا لم يعدلوا عن ظله والاستخفاف بالأشراف والعلماء كفر.
ومن قال للعالم عويلم أو لعلوي عليوي قاصدا به ‌الاستخفاف كفر. ومن أهان الشريعة أو المسائل التي لا بد منها كفر ومن بغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر ولو شتم فم عالم فقيه أو علوي يكفر وتطلق امرأته ثلاثا إجماعا كما في مجموعة المؤيدي نقلا عن الحاوي لكن في عامة المعتبرات أن هذه الفرقة فرقة بغير طلاق عند الشيخين فكيف الثلاث بالإجماع، تدبر.
حكي أن فقيها وضع كتابه في دكان وذهب ثم مر على ذلك الدكان فقال صاحب الدكان هاهنا نسيت المنشار فقال الفقيه: عندك لي كتاب لا منشار، فقال صاحب الدكان: النجار يقطع الخشبة بالمنشار وأنتم تقطعون به حلق الناس أو قال حق الناس أمر ابن الفضل بقتل ذلك الرجل لأنه كفر باستخفاف كتاب الفقيه وفيه إشعار بأن الكتاب إذا كان في غير علم الشريعة كالمنطق والفلسفة لا يكون كفرا لأنه يجوز إهانته في الشريعة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 46
ulama / alim ko gali dene se / say nikah totne ya na totne ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.