عنوان: جہاد کب فرض عین ہوتا ہے؟ (100962-No)

سوال: آج کل انڈیا کے باڈر کی صورت حال کی وجہ سے کیا ہم پر جہاد فرض ہوگیا؟

جواب: اگر دشمن اتنا طاقتور ہو کہ قریب والے مقابلہ نہیں کرسکتے تو اس صورت میں جہاد فرض عین ہوگا اور اگر بعض لوگ دشمن کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو پھر جہاد فرض کفایہ ہوگا، جیسے اس وقت الحمدللہ
! ہماری مسلح افواج دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے، اس صورت میں ہم پر جہاد فرض کفایہ ہوگا۔
فرض کفایہ کا مطلب ہے کہ بعض لوگوں کے اداکرنے سے باقی لوگوں سے فرض ساقط ہوجاتا ہے اور اگر کسی نے بھی ادانہ کیا تو پھر ہرایک مکلف گنہگار شمار کیاجائے گا؛ جیسے: جنازہ کی نماز وغیرہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

کنز الدقائق: (369/1، ط: دار البشائر الاسلامیة)
الجهاد فرض كفاية ابتداء فإن قام به بعض سقط عن الكل وإلا أثموا بتركه۔۔۔۔وفرض عين إن هجم العدو

مختصر القدوری: (231/1، ط: دار الکتب العلمیة)
الجهاد فرض على الكفاية إذا قام به فريق من الناس سقط عن الباقين وإن لم يقم به أحد أثم جميع الناس بتركه۔۔۔وإن هجم العدو على بلد وجب على جميع المسلمين الدفع تخرج المرأة بغير إذن زوجها والعبد بغير إذن المولى

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1110
jihad kab farze ain hota hai?, When is jihad obligatory?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.