عنوان: سرکاری ادارے سے پچھلے تین سالوں کی غیر حاضری کی تنخواہیں وصول کرنے کا حکم (9643-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! میں سرکاری ملازم ہوں قبائلی لڑائیوں کی وجہ سے کئی سال تک میں ڈیوٹی پر نہیں جاسکا، جس کی وجہ سے میری ڈیوٹی ختم کر دی گئی تھی، اور اب دوبارہ میری ڈیوٹی بحال کی جا رہی ہے اور وہ چند سال جن میں میں ڈیوٹی نہیں کرسکا، ان کی بھی تنخواہ دی جا رہی ہے، اور یہ سب سرکاری قوانین کے مطابق ہے، تو کیا جن سالوں میں میں نے ڈیوٹی نہیں دی، ان کی تنخواہ میرے لیے حلال ہے؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب: سوال میں ذکر کردہ صورت میں اگر واقعی آپ کو سرکاری ادارے کی طرف سے ادارے کے ضابطے اور قانون کے مطابق پچھلے تین سالوں کی تنخواہیں دی جارہی ہیں، اور اس میں کسی قسم کے غیر شرعی کام کا عمل دخل نہیں ہے، تو آپ کے لیے یہ تنخواہیں لینا جائز ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (البقرة، الاية: 188)
ولا تأكلوا اموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها الى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالاثم وأنتم تعلمونo

تفسير القرطبي: (338/2، ط: دار الكتب المصرية)
الثانية: الخطاب بهذه الآية يتضمن جميع أمة محمد صلى الله عليه وسلم والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه أو حرمته الشريعة وان طابت به نفس مالكه كمهر البغي وحلوان الكاهن واثمان الخمور والخنازير وغير ذلك.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 416 Jun 27, 2022
sarkari / government k idare / idaray say pichley teen / three salo /years ki ghair hazri ki tankhwahain wusol karna?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.