سوال:
السلام علیکم، مفتی صاحب! کیا درج ذیل بات درست ہے کہ "ذی الحج کی 7، 8، 9، اور 10 تاریخ کو خاص اولاد کے علم و عمل، زندگی، صحت، مال، عزت، اچھے نصیب، نیک جوڑے، اچھی صحبت اور فرمانبرداری کے لیے دعا مانگنی چاہیے، کیونکہ ان دنوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے لیے دعا مانگی تھی، اور اللہ تبارک وتعالی نے وہ دعا قبول فرمائی تھی؟
جواب: یہ سب دعائیں ماثور و منقول ہیں، لیکن مذکورہ تاریخوں کے ساتھ ان دعاؤں کی تخصیص کرنا درست نہیں ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا قرآن شریف میں ذکر ضرور موجود ہے، البتہ ان تاریخوں کی تخصیص نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (البقرة، الآية: 127- 128- 129)
وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ o رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ o رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ o
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی