عنوان: جنت میں دنیا کی یادیں(100969-No)

سوال: السلام علیکم، حضرت ! میرا سوال یہ ہےکہ کیا جنت میں انسان دنیا کے ماضی کے خیالات رکھے گا، مطلب جیسے ہم اپنا بچپن یاد کرتے ہیں؟

جواب: جنت میں دنیا کی یاد سے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے درج ذیل باتوں کاثبوت ملتا ہے۔
(1) جنت میں جنتی آپس میں جب مل بیٹھیں گے تو دنیا کے حالات کا تذکرہ کریں گے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ۔قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ۔فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ۔كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوهُ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ۔(سورة طور ، آیت نمبر: 25_28)
ترجمہ:
یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے ) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ 

(2) جنتی دنیا کی تکالیف کو یاد کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ۔(سورة فاطر،آیت نمبر:34)
ترجمہ:
اور وہ کہیں گے کہ تمام تر تعریف اللہ کی ہے، جس نے ہم سے ہر غم دور کردیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بہت بخشنے والا، بڑا قدردان ہے۔

(3) جنتی جنت کے میوے اور پھل دیکھ کر دنیا کے پھلوں کا ذکر کریں گے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا۔(سورة البقرہ،25 آیت نمبر:)
ترجمہ: جب کبھی ان کو ان (باغات) میں سے کوئی پھل رزق کے طور پر دیا جائے گا تو وہ کہیں گے ” یہ تو وہی ہے، جو ہمیں پہلے بھی دیا گیا تھا “ اور انہیں وہ رزق ایسا ہی دیا جائے گا، جو دیکھنے میں ملتا جلتا ہوگا۔

(4) حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیان فرما رہے تھے، ایک دیہاتی بھی مجلس میں حاضر تھا کہ اہل جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کھیتی کرنے کی اجازت چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا، کیا اپنی موجودہ حالت پر تو راضی نہیں ہے؟ وہ کہے گا کیوں نہیں! لیکن میرا جی کھیتی کرنے کو چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس نے بیج ڈالا۔ پلک جھپکنے میں وہ اگ بھی آیا۔ پک بھی گیا اور کاٹ بھی لیا گیا۔ اور اس کے دانے پہاڑوں کی طرح ہوئے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! اسے رکھ لے، تجھے کوئی چیز آسودہ نہیں کر سکتی۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ قسم اللہ کی وہ تو کوئی قریشی یا انصاری ہی ہوگا۔ کیونکہ یہی لوگ کھیتی کرنے والے ہیں۔ ہم تو کھیتی ہی نہیں کرتے۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔
(بخاری ، حدیث نمبر:2348)
اس حدیث کی تشریح میں علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ جنتی کےلئے دنیا کی امور میں سے جس چیز کی خواہش کریں گے، وہ سب ممکن ہوگا۔
( فتح الباری:6/150، ط، دار الطیبہ،ریاض۔)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 212
jannat mai dunya ki yaadai, Memories of the world in heaven

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.