عنوان: زکوٰۃ کے وکیل نے زکوٰۃ کی رقم اپنے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھوائی ہو، تو کیا اس پر ملنے والا نفع وکیل استعمال کر سکتا ہے؟ (9726-No)

سوال: ایک شخص نے زکوۃ کی رقم میرے میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں آن لائن ٹرانسفر کی اور یہ کہا کہ اس رقم کو کسی مستحق زکوۃ شخص تک پہنچا دو! اور مجھے یہ رقم اکاؤنٹ سے نکلوانے میں ایک دو مہینہ لگ گئے، اس وقت میں جو اس رقم پر بینک کی طرف سے جو نفع موصول ہوا، تو کیا اس نفع کا استعمال میرے لیے حلال ہے؟

جواب: 1- واضح رہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو زکوٰۃ ادا کرنے کا وکیل بناتا ہے، بشرطیکہ وہ وکیل مستحقین زکوٰۃ (مثلاً مدرسہ کے طالبعلموں وغیرہ) کی طرف سے زکوٰۃ وصول کرنے کا وکیل نہ ہو، تو زکوٰۃ کی یہ رقم وکیل کے پاس اس وقت تک امانت ہوتی ہے، جب تک وکیل اس رقم کا مستحقِ زکوۃ کو مالک نہ بنا دے، اور اس وقت تک وہ رقم اصل مؤکل ہی کی سمجھی جاتی ہے، لہذا زکوۃ کے وکیل کے بینک اکاونٹ میں جب تک وہ رقم رکھى رہے گى، تب تک یہ رقم وکیل کے پاس امانت ہوگی۔
مذکورہ رقم سیونگ اکاؤنٹ میں رکھنے کی صورت میں اس سے حاصل ہونے والے نفع کا مالک وکیل نہیں ہوگا، بلکہ مؤکل (جس نے زکوۃ کى رقم دى ہے) اس نفع کا مالک ہوگا، لہذا وکیل کے لیے اپنے مؤکل سے اس نفع کے استعمال کے متعلق اجازت لینا ضرورى ہوگا، اگر وہ وکیل کو اس نفع کے استعمال کى اجازت دیدے، تو وہ اس نفع کو استعمال کر سکتا ہے اور اگر وہ اس نفع کو مستحقین پر خرچ کرنے کا کہے، تو یہ نفع مستحقینِ زکوۃ پر خرچ کیا جائے گا۔
2- دوسری صورت یہ ہے کہ وہ شخص زکوۃ ادا کرنے والے کی طرف سے نہیں، بلکہ مستحقین زکوٰة یعنی مدرسہ کے طالب علم وغیرہ کى طرف سے زکوۃ کے وصول کرنے کا وکیل ہو، ایسی صورت میں وکیل کے قضبہ کرتے ہی وہ زکوٰۃ طالبعلموں کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے، لہذا اگر اس رقم کو زکوۃ کے وکیل نے اپنے غیر سودى بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھا ہو، تو اس سے حاصل ہونے والا نفع مدرسہ کے طالبعلموں کی ملکیت ہوگا اور اس نفع کو انہی پر خرچ کیا جائے گا، وکیل کے لیے اس نفع کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
نیز آئندہ ایسی صورت میں زکوٰۃ کی رقم کو غیر سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھوانے سے بھی اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ غیر سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں جو رقم ہوتی ہے، وہ کاروبار کے لیے ہوتی ہے اور کاروبار میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال رہتا ہے، خدا نخواستہ اگر نقصان ہوتا ہے، تو شرعاً اس کا تاوان زکوٰۃ کے وکیل پر آئے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (كتاب الزكاة، 270/2، ط: دار الفكر- بيروت)
"ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء".
"(قوله: ولا يخرج عن العهدة بالعزل) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة ولو مات كانت ميراثا عنه، بخلاف ما إذا ضاعت في يد الساعي لأن يده كيد الفقراء بحر عن المحيط".

حاشیة امداد الفتاوي جدید: (کتاب الزکاۃ و الصدقات، 606/3، ط: زکریا بک دپو، دیوبند)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 65
zakat k wakeel ne zakat ki raqam apne saving account me / mein rakhwai ho, too kia us per milne wala nafa wakeel istemal karsakta hay?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.