resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بہن، بھتیجے، بھتیجیوں، بھانجے اور بھانجیوں میں میراث کی تقسیم(9804-No)

سوال: ایک خاتون کا انتقال ہوگیا ہے شوہر اور والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا اور اس خاتون کے کوئی بچے بھی نہیں ہیں صرف ایک بہن، ایک بھتیجا، تین بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ان میں میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟
تنقیح:
محترم ! اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ خاتون کے انتقال کے وقت خاتون کے کون کون سے رشتہ دار زندہ تھے، اور ان کا کب انتقال ہوا؟
اس وضاحت کے بعد ہی آپ کے سوال کا جواب دیا جا سکے گا۔
جزاک اللہ خیرا

جواب: مرحومہ کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ دو (2) حصوں میں تقسیم کی جائے گی، جس میں سے بہن کو ایک (1) اور بھتیجے کو ایک (1) حصہ ملے، جبکہ بھتیجے کی موجودگی میں بھتیجیاں اور بہن کے بچوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
اگر فیصد کے اعتبار سے تقسیم کریں تو پچاس (%50) فیصد بہن کو اور پچاس (%50) بھتیجے کو ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الآیۃ: 176)
اِنِ امْرُؤٌا ھَلَکَ لَیْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّ لَہٗٓ اُخْتٌ فَلَھَا نِصْفُ مَا تَرَکَ وَھُوَ یَرِثُھَآ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّھَا وَلَدٌ... الخ الایۃ

الدر المختار: (774/6، ط: سعید)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف: جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب.

و فیه ایضاً: (783/6- 784، ط: سعید)
"إن ابن الأخ لایعصب أخته کالعم لایعصب أخته وابن العم لایعصب أخته وابن المعتق لایعصب أخته بل المال للذکر دون الأنثیٰ لأنها من ذوي الأرحام، قال في الرحبیة: ولیس ابن الأخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب".

الفتاوى الهندية: (451/6، ط: دار الفکر)
'' وباقي العصبات ينفرد بالميراث ذكورهم دون أخواتهم، وهم أربعة أيضاً: العم وابن العم وابن الأخ وابن المعتق، كذا في خزانة المفتين''.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

behen / sister,bhatije,bhatijio,bhanje or bhanjio me miras / meras ki taqseem

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster