عنوان: سرکاری ملازم کا کام کیے بغیر تنخواہ لینا(9815-No)

سوال: کسی کی سرکاری نوکری ہے، لیکن وہ ڈیوٹی نہیں دیتا لیکن ہر مہینے سیلری وصول کرتا ہے تو اس کی سیلری کا کیا حکم ہے؟ کام بھی اتنا نہیں ہوتا بس زیادہ تر کچھ گھنٹے بیٹھنا ہوتا ہے اگر کوئی کام ہو تو کروالیتے ہیں ورنہ نہیں نہ سرکار کی طرف سے کوئی سختی ہے۔

جواب: واضح رہے کہ ملازمت کی صورت میں طے شدہ وقت دیے بغیر یا طے شدہ کام کیے بغیر تنخواہ لینا جائز نہیں ہے، اور ایسی صورت میں لی گئی تنخواہ بھی حلال نہیں ہوتی۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر معاہدہ وقت کی بنیاد پر ہوا ہو کہ اتنا وقت دینا ہے، تو ایسی صورت میں طے شدہ وقت دینا ضروری ہوگا، چاہے کوئی کام ہو یا نہ ہو۔ اگر سرے سے وقت ہی نہ دیا جائے، تو تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔ اگر مکمل وقت نہ دیا جائے تو جتنا وقت دیا ہے، صرف اس کے عوض بننے والی تنخواہ لینا جائز ہے، البتہ اگر کسی دن کام نہ ہونے کی وجہ سے مجاز افسر (جسے ملازمین کو چھٹی دینے کا اختیار حاصل ہو) کی طرف سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، اگر مقررہ وقت سے پہلے چھٹی دیدی جائے، تو ایسی صورت میں پوری تنخواہ لینا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوي الهندية: (412/4، ط: دار الفکر)
الأجر لا يملك بنفس العقد ولا يجب تسليمه به عندنا عينا كان أو دينا، كذا في الكافي، وهكذا ذكر محمد رحمه الله تعالى.

و فیها ایضا: (413/4، ط: دار الفکر)
ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه.

النتف في الفتاوي للسغدي: (558/2، ط: دار الفرقان)
الاجارة لاتخلو من وجهين؛ اما ان تقع على وقت معلوم او على عمل معلوم، فان وقعت على عمل معلوم فلا تجب الاجرة الا باتمام العمل اذا كان العمل مما لا يصلح اوله إلا بآخره وان كان يصلح اوله دون آخره فتجب الاجرة بمقدار ما عمل، واذا وقعت على وقت معلوم فتجب الاجرة بمضي الوقت ان هو استعمله او لم يستعمله وبمقدار ما مضى من الوقت تجب الاجرة.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 36
sarkari / government mulazim / nokar ka kaam / work kiye baghair tankhwah / sallary lena

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2022.