resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ایک بیٹا، ایک بیٹی اور تین پوتوں میں میراث کی تقسیم(9950-No)

سوال: ایک خاتون کا انتقال ہوا، ان کے ورثاء میں ایک بیٹا، ایک بیٹی اور تین پوتے ہیں، جبکہ ایک بیٹے کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہوگیا تھا، ان کی اور بیوی کے درمیان جدائی ہوگئی تھی جس کے بعد تینوں بیٹے والدہ کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوگئے تھے، مرحومہ کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی؟

جواب: مرحومہ کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو تین (3) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیٹے کو دو (2) اور بیٹی کو ایک (1) حصہ ملے گا۔
فیصد کے اعتبار سے بیٹے کو % 66.66 فیصد اور بیٹی کو % 33.33 فیصد ملے گا۔
نوٹ: مرحومہ کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے اور ان کی اولاد کو مرحومہ کی میراث میں سے شرعاً کوئی حصہ نہیں ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایۃ: 11)
يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ....الخ

صحیح البخاری: (باب میراث ابن الابن، 266/4، ط: دار الکتب العلمیة)
وقال زيد: ولد الأبناء بمنزلة الولد، إذا لم يكن دونهم ولد ذكرهم كذكرهم، وأنثاهم كأنثاهم، يرثون كما يرثون، ويحجبون كما يحجبون، ولا يرث ولد الابن مع الابن".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

aik beta, aik beti or teen / three / 3 poto / poton me / mein miras ki taqseem

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster