resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان 60 لاکھ کی تقسیم میراث(10050-No)

سوال: بیوی، تین بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان 60 لاکھ مالیت کی تقسیم کس حساب سے ہوگی؟

جواب: مرحوم کی تجہیز و تکفین کے جائز اور متوسط اخراجات، قرض کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی (1/3) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو چونسٹھ (64) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے بیوہ کو آٹھ (8)، تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو چودہ (14) اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو سات (7) حصے ملیں گے۔
اس تقسیم کی رو سے ساٹھ لاکھ (6000000) روپوں میں سے بیوہ کو سات لاکھ پچاس ہزار (750000)، تینوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو تیرہ لاکھ بارہ ہزار پانچ سو (1312500) اور دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو چھ لاکھ چھپن ہزار دو سو پچاس (656250) روپے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النساء، الایة: 11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاء فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَد ... الخ

و قوله تعالیٰ: (النساء، الایة: 12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ... الخ

والله تعالىٰ أعلم بالصواب ‏
دارالإفتاء الإخلاص،کراچی

biwi,teen bete / betay or dou / doo / 2 betio / betiyon k darmian / darmyan saath /60 laakh ki taqseeme miras

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Inheritance & Will Foster