عنوان: اوقات ملازمت میں فرض نماز پڑھنے کا حکم(10071-No)

سوال: میں ایک ادارہ میں کام کرتا ہوں، میرا ڈیوٹی ٹائم چار گھنٹے ہے، اس دوران ظہر اور عصر کی نماز کا وقت بھی آجاتا ہے تو نماز پڑھنے جاتا ہوں، میں آپ سے پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ میں ڈیوٹی کے دوران جو فرض نمازیں پڑھنے کے لیے جاتا ہوں تو کیا مجھے ڈیوٹی کے علاوہ اتنا وقت مزید کام کرنا پڑے گا؟

جواب: نماز اللہ کا حکم اور ایک شرعی فریضہ ہے، اس وجہ سے فرض نماز، سنت موکدہ اور واجب کے بقدر وقت ملازمت سے مستثنیٰ ہوتا ہے، جیسا کہ طبعی ضروریات مثلا: کھانا پینا اور قضائے حاجت کا وقت ملازمت سے مستثنی ہوتا ہے۔
لہذا ملازمت کے اوقات میں فرض نماز، واجب اور سنت موکدہ پڑھی جاسکتی ہیں، ان میں مشغولیت کی وجہ سے بعد میں اضافی وقت دینا شرعا لازم نہیں ہے۔
البتہ دوران ملازمت نوافل ادا کرنا درست نہیں ہے، ہاں! اگر متعلقہ ادارہ/کمپنی کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الدر المختار مع رد المحتار: (70/6، ط: دار الفکر)

(قوله ولیس للخاص ان یعمل لغیره) بل ولا ان یصلی النافلة قال فی التتارخانیة: وفی فتاوی الفضلی و اذا استاجر رجلا یوما یعمل کذا فعلیه ان یعمل ذلك العمل الی تمام المدة ولا یشتغل بشیء آخر سوی المكتوبة وفی فتاوی سمرقند: وقد قال بعض مشایخنا له ان یؤدی السنة ایضا و اتفقوا انه لایؤدی نفلا وعلیه الفتوی.

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 702 Dec 22, 2022
oqat / auqat / ouqat e mulazmat me / mein farz namaz parhne ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.