عنوان: "اگر آپ نے اپنی بھابھيوں سے واسطہ ركھا تو آپ کو طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، طلاق ہوگی" کہنے سے طلاق کا حکم" (10273-No)

سوال: میرا شوہر ہر وقت مجھ پر شک کرتا ہے اور میری بھابھیوں کو بھی گندا سمجھتا ہے، ایک دن ہماری لڑائی ہوئی اور میرے شوہر نے کہا کہ "اگر آپ نے اپنی بھابھیوں سے واسطہ رکھا تو آپ کو میری طرف سے طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، اور پھر دو ماہ بعد میں اپنے میکے گئی، اور اب مجھے یہاں دو ماہ ہوگئے ہیں۔
میرا شوہر اب کہتا ہے کہ میری نیت غلط کام میں ان کا ساتھ دینے کی تھی،
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اگر میں اپنے میکے میں بھابھیوں سے ملتی ہوں اور بات چیت کرتی ہوں تو کیا مجھ پر طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟
نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر میں کسی ایک بھابھی سے نہیں ملی اور باقیوں سے مل گئی تو کیا اس صورت میں بھی طلاق ہوجائے گی؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں شوہر کے الفاظ "اگر آپ نے اپنی بھابھیوں سے واسطہ رکھا تو آپ کو طلاق ہوگی، طلاق ہوگی، طلاق ہوگی" سے تین طلاقیں آپ کے بھابھیوں سے واسطہ رکھنے پر معلق ہوگئی ہیں، اور واسطہ رکھنے سے عرف میں تعلق اور رابطہ رکھنا مراد ہوتا ہے، جب کہ شوہر کا کہنا ہے کہ اس نے غلط کام میں ساتھ دینے کی نیت کی تھی، یہ نیت چونکہ ظاہری الفاظ کے بھی خلاف ہے، اس كے محتملات ميں سے نہیں ہے، اور عرف سے سمجھ میں آنے والے مفہوم کے بھی خلاف ہے، نیز واسطہ رکھنا ایک فعل ہے، جو تخصیص کا سرے سے ہی احتمال نہیں رکھتا، اس لیے اس میں شوہر کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
لہٰذا جب آپ اپنے میکے گئیں اور وہاں بھابھیوں سے بات چیت اور تعلق رہا تو ایسی صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، تین طلاقیں دینے کی صورت میں عدت کے دوران رجوع کا حق باقی نہیں رہتا ہے، اور نہ ہی عدت گزرنے کے بعد اس شوہر سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے، جب تک کسی اور مرد سے نکاح کر کے اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر وہ طلاق دے دے یا انتقال کر جائے تو عدت گزرنے کے بعد طرفین کی رضامندی سے نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں اسی شخص سے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوی الهندية: (420/1، ط: دار الفكر)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

رد المحتار: (784/3، ط: الحلبي، بيروت)
مطلب: (قوله نية تخصيص العام تصح ديانة لا قضاء) ... والعام تصح فيه نية التخصيص، لكن لا يصدقه القاضي لأنه خلاف الظاهر. واعلم أن الفعل لا يعم ولا يتنوع كما في تلخيص الجامع لأن العموم للأسماء لا للفعل هو المنقول عن سيبويه كذا في شرحه للفارسي. قلت: ويرد عليه ما مر من مسألة الخروج والمساكنة والشراء إلا أن يقال كما مر إن التنوع هناك للفعل بواسطة مصدره لا إصالة تأمل.

أصول السرخسي: (252/1، ط: دار المعرفة)
والنية إنما تعمل إذا كان المنوي من محتملات اللفظ ..... وعلى هذا لو قال إن خرجت ونوى الخروج إلى مكان بعينه لم تعمل نيته ولو نوى السفر تعمل نيته لأن السفر نوع من أنواع الخروج وهو ثابت باعتبار صيغة كلامه ألا ترى أن الخروج لغير السفر بخلاف الخروج للسفر في الحكم فأما المكان فليس من صيغة كلامه في شيء وإن كان الخروج يكون إلى مكان لا محالة فلم تعمل ‌نية ‌التخصيص فيه لما لم يكن من مقتضى صيغة الكلام بخلاف الأول.
وكذلك لو قال إن ساكنت فلانا ونوى المساكنة في مكان بعينه لم تعمل نيته أصلا ولو نوى المساكنة في بيت واحد تعمل نيته باعتبار أنه نوى أتم ما يكون من المساكنة فإن أعم ما يكون من المساكنة في بلدة والمطلق من المساكنة في عرف الناس في دار واحدة وأتم ما يكون من المساكنة في بيت واحد فهذه النية ترجع إلى بيان نوع المساكنة الثابتة بصيغة كلامه بخلاف تعين المكان.

أحكام القرآن للجصاص: (353/4)
وقَوْله تَعَالَى ‌يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عن القوم الفاسقين يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَلِفَ عَلَى الِاعْتِذَارِ مِمَّنْ كَانَ مُتَّهَمًا لَا يُوجِبُ الرِّضَا عَنْهُ وَقَبُولَ عُذْرِهِ.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 564 Feb 20, 2023
agar aap ne apni bhabhio / bhabhion se / say wasta rakha too app ko talaq hogi,talaq hogi,talaq hogi, " kehne se /say talaq ka hokom /hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.