عنوان: بیوی اپنے ماں باپ سے کتنے عرصے بعد ملنے جا سکتی ہے؟ نیز عورت کے میکہ جانے کے لیے سفر کے اخراجات شوہر پر لازم ہیں یا نہیں؟ (10313-No)

سوال: حضرت! میں ملازمت کرتا ہوں اور میری 2 بیویاں ہیں، اخراجات اللہ پاک پورے کرتا ہے، ایک بیوی کے ماں باپ پشاور کوہاٹ میں رہائش پذیر ہیں، ان سے بیوی کو ملے ہوئے 4 سال ہوگئے ہیں، سفر کے لیے محرم بھی ساتھ نہیں ہے اور میرے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہیں، لیکن بیوی ضد کررہی ہے کہ قرضہ لے کر مجھے والدین سے ملنے کے لیے بجھوادو۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں میرے لیے کیا حکم ہے؟

جواب: آپ نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ آپ کہاں رہتے ہیں، یعنی پشاور سے کتنا دور رہتے ہیں، تاہم اس سلسلے میں اصولی جواب یہ ہے کہ آپ کو چاہیے کہ خاندان اور عرف کے مطابق وقتًا فوقتًا بیویوں کو ان کے والدین اور محارم سے ملنے کی اجازت دیں، شریعت نے عورت کو یہ حق دیا ہے کہ اگر شوہر اجازت نہ دے، تب بھی بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر والدین سے ہفتہ میں ایک مرتبہ اور محرم رشتہ داروں سے سال میں ایک دفعہ ملاقات کے لیے جاسکتی ہے۔
پوچھی گئی صورت میں چار سال میں ایک مرتبہ بھی ماں باپ سے ملوانے کے لیے نہ لے جانا آپ کی طرف سے سخت زیادتی کی بات ہے، جس سے احتراز کرنا چاہیے، جہاں تک سفری اخراجات کے نہ ہونے کا تعلق ہے تو اگرچہ یہ اخراجات دینا شرعا آپ پر لازم نہیں ہیں، لیکن اخلاقی طور پر یہ اخراجات بھی آپ ہی کو برداشت کرنے چاہئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الكريم: (البقرة، الآية: 215)
يَسَۡٔلُونَكَ مَاذَا ‌يُنفِقُونَۖ قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٖ فَلِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِ عَلِيمٞo

البحر الرائق: (212/4، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وقد استفيد مما ذكرناه أن لها الخروج إلى زيارة الأبوين والمحارم فعلى الصحيح المفتى به تخرج للوالدين في كل ‌جمعة بإذنه وبغير إذنه ولزيارة المحارم في كل سنة ‌مرة بإذنه وبغير إذنه، وأما الخروج للأهل زائدا على ذلك فلها ذلك بإذنه.

المحيط البرهاني: (170/3، ط: دار الكتب العلمية)
وفي «فتاوى أبي الليث» رحمه الله عن الفقيه أبي بكر الإسكاف رحمه الله أن الزوج لا يملك أن يمنع ‌الأبوين عن الدخول عليها عن الزيارة في كل جمعة وأما يمنعهما عن الكينونى وعليه الفتوى.

الهندية: (549/1، ط: دار الفكر)
والنفقة الواجبة المأكول والملبوس والسكنى أما المأكول فالدقيق والماء والملح والحطب والدهن كذا في التتارخانية وكما يفرض لها قدر الكفاية من الطعام كذلك من الآدام كذا في فتح القدير ويجب لها ما تنظف به وتزيل الوسخ كالمشط والدهن، وما تغسل به من السدر والخطمي، وما تزيل به الدرن كالأشنان والصابون على عادة أهل البلد، وأما ما يقصد به التلذذ والاستمتاع مثل الخضاب والكحل فلا يلزمه بل هو على اختياره إن شاء هيأه لها، وإن شاء تركه، فإذا هيأه لها فعليها استعماله، وأما الطيب فلا يجب عليه منه إلا ما يقطع به السهوكة لا غير ويجب عليه ما يقطع به الصنان، ولا يجب الدواء للمرض، ولا أجرة الطبيب، ولا الفصد، ولا الحجامة كذا في السراج الوهاج وعليه من الماء ما تغسل به ثيابها وبدنها من الوسخ كذا في الجوهرة النيرة.

و فیها أيضا: (546/1، ط: دار الفکر)
وأما إذا حج الزوج معها فلها النفقة إجماعا، وتجب عليه نفقة الحضر دون السفر، ولا يجب الكراء أما إذا حجت للتطوع فلا نفقة لها إجماعا إذا لم يكن الزوج معها هكذا في الجوهرة النيرة.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 302
biwi / zoja apne maa baap / walid walida se kitne arse / arsay bad milne jasakti hai? neez orat / ourat k mekay / meka / walid walida k ghar jane k liye safar k ikhrajat shohar / khawand per lazim hain ya nahi?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Nikah

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2023.