عنوان: قعدہ یا قیام میں غلطی کی صورت میں مقتدی کو کس طرح لقمہ دینا چاہیے؟ (10329-No)

سوال: پنج وقتہ نمازوں یا تراویح میں امام دوسری رکعت میں قعدہ پر بیٹھنے کے بجائے سیدھا کھڑا ہو جائے تو مقتدی اس کو کن الفاظ کے ذریعے متنبہ کرسکتا ہے؟
اسی طرح پنج وقتہ نمازوں میں یا تراویح میں امام پہلی یا تیسری رکعت کے بعد کھڑے ہونے کے بجائے قعدہ میں بیٹھ جائے یا دوسری اور چوتھی رکعت میں قعدہ میں بیٹھنے کے بجائے سیدھا کھڑا ہو جائے تو اس صورت میں امام کے لیے کیا حکم ہے؟ تفصیل سے آگاہ فرما دیں

جواب: نماز کے دوران اگر امام سے بھول ہو جائے، یعنی کھڑے ہونے کے بجائے بیٹھ جائے، یا قعدہ میں بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہونے لگے تو مقتدی کو چاہیے کہ "سبحان اللہ" کہہ کر امام کو یاد دلائے۔
پھر اگر امام پہلی یا تیسری رکعت میں اتنی دیر بیٹھ گیا ہو، جتنی دیر میں تین مرتبہ سبحان اللہ (معتدل رفتار کے ساتھ) پڑھا جاتا ہے تو اس پر نماز کے آخر میں سجدہ سہو لازم ہوگا، اور اگر اس سے کم وقت بیٹھا ہو تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔
اور اگر امام قعدہ اولیٰ کے بجائے تیسری رکعت کے لئے بالکل سیدھا کھڑا ہوجائے تو یاد آنے پر اسے واپس نہیں بیٹھنا چاہیے، اس صورت میں سجدہ سہو کرنے سے نماز درست ہو جائے گی، اور اگر امام کو بالکل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو اسے چاہیے کہ قعدہ اولیٰ کی طرف لوٹ آئے، اور اس صورت میں اس پر سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوگا۔
اور اگر امام چوتھی رکعت کا قعدہ اخیرہ کیے بغیر کھڑا ہوگیا تو پانچویں رکعت کے سجدے سے پہلے جب بھی اسے یاد آجائے تو قعدہ کی طرف لوٹ آئے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے، اس کی فرض نماز درست ہو جائے گی، لیکن اگر امام کو یاد نہیں آیا اور اس نے پانچویں رکعت کا سجدہ بھی کرلیا تو اس کی فرض نماز باطل ہوگئی، اب اس کے ذمہ فرض نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے(یہ اس صورت میں ہے جب امام نے چوتھی رکعت میں قعدہ نہیں کیا ہو)، اگر امام چوتھی رکعت میں قعدہ اخیرہ کرنے کے بعد پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا ہو، اس صورت میں پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے پہلے جب بھی یاد آجائے تو بیٹھ جائے اور سجدہٴ سہو کرکے نماز پوری کرلے، اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرلیا پھر یاد آیا تو ایک رکعت اور ملاکر چھ رکعت پوری کرکے سجدہ سہو کرلے، اس صورت میں پہلی چار رکعتیں فرض شمار ہوں گی اور بقیہ دو رکعتیں نفل ہوجائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

غنیة المستملی: (فصل فی السجود، ص: 458، ط: سهیل اکیدمی، لاھور)
و قام فی الصلوٰۃ الرباعیة الی الرکعة الخامسة او قعد بعد رفع راسه من السجود فی الرکعة الثالثة او قام الی الرابعة فی المغرب، او الثالثة فیه او فی الفجر او قعد بعد رفعه من الرکعة الاولی فی جمیع الصلوات یجب علیه سجود السهو بمجرد القیام فی صورۃ و بمجرد القعود فی صورۃ لتاخیر الواجب و ھو التشھد او السلام فی صورۃ القیام و تاخیر الرکن و ھو القیام فی صورۃ القعود۔

رد المحتار: (باب صفة الصلاۃ، 469/1، ط: دار الفکر)
وكذا القعدة في آخر الركعة الأولى أو الثالثة فيجب تركها، ويلزم من فعلها أيضا تأخير القيام إلى الثانية أو الرابعة عن محله، وهذا إذا كانت القعدة طويلة، أما الجلسة الخفيفة التي استحبها الشافعي فتركها غير واجب عندنا، بل هو الأفضل كما سيأتي وهكذا كل زيادة بين فرضين يكون فيها ترك واجب بسبب تلك الزيادة؛ ويلزم منها ترك واجب آخر وهو تأخير الفرض الثاني عن محله.

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (ص: 258)
ولم یبینوا قدر الرکن وعلی قیاس ما تقدم ان یعتبر الرکن مع سنته وھو مقدر بثلاث تسبیحات ۔

الھدایة: (166/1، ط: مکتبة رحمانیة)
و من سہی عن القعدہ الاولی ثم تذکر، و ھو الی حالۃ القعود اقرب، عاد و قعد وتشھد، ولو کان الی القیام اقرب، لم یعد، لانہ کالقائم معنی ً، و یسجد لسھو، لانه ترک الواجب۔

الدر المختار: (کتاب الصلاۃ، باب سجود السهو، 87/2، ط: دار الفکر)
"(ولو سها عن القعود الأخير) كله أو بعضه (عاد) ويكفي كون كلا الجلستين قدر التشهد (ما لم يقيدها بسجدة)؛ لأن ما دون الركعة محل الرفض وسجد للسهو لتأخير القعود."

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 1591 Mar 05, 2023
qada / qaada ya qayam me / mein ghalti ki sorat / soorat me / mein muqtadi ko kis tarh / tarah luqma dena chahiye?

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.