عنوان: اشتہارات میں نامحرم کی تصویر اور موسیقی کے استعمال کا حکم (10350-No)

سوال: کچھ Ecommerce business کی ضرورت کے پیش نظر جو Social media marketing کے لئے اشتہار بنائے اور لگائے جاتے ہیں، اس میں images and videos لگانی پڑتی ہیں جس میں کسی خاتون کی ویڈیو یا تصویر ہوتی ہے، جس میں زیادہ تر کوئی ایسا مواد نہیں ہوتا کہ دیکھنے والا اس طرف متوجہ ہو، بلکہ انٹرنیٹ پر یہ ایک معمول کی چیز ہوتی ہے اور مقصد بھی اس چیز کا طریقہ استعمال یا اس کے فوائد بتانا مقصود ہوتا ہے، اسی طرح اس میں background music بھی ہوتا ہے، اس پر گانے والے music کو تو ہم ہٹا سکتے ہیں، لیکن پھر بھی اس طرح کا music ڈالنا پڑتا ہے، جیسے موبائل کی tones ہوتیں ہیں، ایسی صورت میں ہمارے لیے اس طرح کا اشتہار بنانا کیسا ہے؟

جواب: آپ کے سوال میں دو چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے، دونوں کا حکم درج ذیل ہے:
1) نامحرم خواتین کی تصاویر اور ویڈیو بنانا اور دیکھنا جائز نہیں ہے، اور چونکہ اشتہارات میں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے، اس لیے اشتہارات میں خواتین کی تصاویر یا ویڈیوز لگانا گناہ کے کام میں معاونت کی وجہ سے ناجائز ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
2) ایسے آلاتِ موسیقی جن کا استعمال سرور پیدا کرے اور وہ بنائے بھی اسی مقصد کے لیے گئے ہوں، ان کا استعمال ناجائز ہے، لہذا ان سے بنے ہوئے میوزک کو اشتہارات میں ڈالنا بھی جائز نہیں ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
اور جو آلات لہو و لعب کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اعلانات اور گھنٹی وغیرہ کے طور پر بھی استعمال ہوسکتے ہیں، ان کا استعمال اگر لہو و لعب کے لیے ہو تو مکروہ ہے، اور کسی ضرورت مثلاً: گھنٹی، اعلان وغیرہ کے لیے ہو تو اس کی گنجائش ہے، لیکن چونکہ تشہیر میں بھی اس کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے اس غرض کیلئے میوزیکل ٹونز کا استعمال شرعا پسندیدہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (المائدة، الایة: 2)
وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان ... الخ

رد المحتار: (55/6، ط: دار الفکر)
وإذا كان الطبل لغير اللهو فلا بأس به كطبل الغزاة والعرس لما في الأجناس: ولا بأس أن يكون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النكاح.
وفي الولوالجية: وإن كان للغزو أو القافلة يجوز إتقاني ملخصا.

ایضا: (395/6، ط: دار الفکر)
(قوله وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام.

فتح القدیر: (410/7، ط: دار الفکر)
وفي مغني ابن قدامة: الملاهي نوعان: محرم وهو الآلات المطربة بلا غناء كالمزمار والطنبور ونحوه، لما روى أبو أمامة أنه - عليه الصلاة والسلام - قال «إن الله تعالى بعثني رحمة للعالمين، وأمرني بمحق المعازف والمزامير» . والنوع الثاني مباح وهو الدف في النكاح، وفي معناه ما كان من حادث سرور. ويكره غيره لما عن عمر - رضي الله عنه - أنه كان إذا سمع صوت الدف بعث ينظر، فإن كان في وليمة سكت، وإن كان في غيره عمد بالدرة.

کذا فی تبویب فتاوی دار العلوم کراتشي: رقم الفتوی: 2074/9

واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 525 Mar 08, 2023
ishteharat / ishtiharat / advertising me / mein namehram ki tasweer / tasveer / photo / picture or mosiqi / music k estemal ka hokom / hokum

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Employee & Employment

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.