عنوان: جنگ قادسیہ میں حضرت خنساء رضی اللّٰہ عنہا کا اپنے چار بیٹوں کو جہاد پر بھیجنا اور ان چاروں کا جام شہادت نوش کرنا، اس واقعے کی تحقیق (10428-No)

سوال: خنساء بنت عمروؓ کے بارے میں مشہور ہے کہ جنگِ قادسیہ میں اُن کے چار بیٹے شہید ہو گئے تھے۔ کیا یہ روایت صحیح ہے؟

جواب: جى ہاں! جنگ قادسیہ میں حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کا جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر اپنے چاروں بیٹوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے راستے میں قربان ہونے اور ان میں جہاد اور شوق شہادت کی امنگ پیدا کر کے روانہ کرنے کا یہ مشہور واقعہ تاریخ اسلام کی کتابوں میں موجود ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کى سیرت و حالات زندگى سے متعلق لکھى جانے والى مختلف کتابوں میں بھی مذکور ہے، جلیل القدر امام حدیث حافظ ابن حجر عسقلانى رحمہ اللہ (م 852 ھ) نے صحابہ کرام کے تذکرے پر مشتمل اپنى مشہور کتاب "الإصابة" جلد 13 ص 335 میں حضرت خنساء رضی اللہ عنہا کے حالات زندگى کے بیان میں اس واقعہ کا بھى ذکر فرمایا ہے، البتہ انہوں نے اس واقعے کو نقل کرنے والے ایک راوى "محمد بن الحسن المخزومى المعروف بابن زبالۃ" کے متعلق یہ تبصرہ کیا ہے: وہ متروکین میں سے ایک ہیں، یعنى محدثین نے اس راوى کو ضعیف قرار دیا ہے۔
تاہم اگرچہ یہ راوى ضعیف ہے، لیکن چونکہ یہ واقعہ ایک تاریخى روایت ہے، کوئی حدیث نہیں ہے، اس لیے اس کی روایت میں ضعیف راوی کی روایت بھی گوارہ کر لی جائے گی، نیز اس تاریخی روایت سے کوئی حکم شرعى بھی متعلق نہیں ہے، اس لیے اس واقعے کو بیان کیا جاسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الإصابة في تمييز الصحابة: (332/13، ط: مركز هجر للبحوث)
"11239- خنساء بنت عمرو بن الشريد بن ثعلبة بن عصية بن خفاف بن امرئ القيس بن بهثة بن سليم السلمية الشاعرة المشهورة....وذكر الزبير بن بكار، عن محمد بن الحسن المخزومي وهو المعروف بابن زبالة أحد المتروكين، عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن أبيه، عن أبي وجزة، عن أبيه قال حضرت الخنساء بنت عمرو السلمية حرب القادسية ومعها بنوها أربعة رجال فذكر موعظتها لهم وتحريضهم على القتال وعدم الفرار وفيها إنكم أسلمتم طائعين وهاجرتم مختارين وإنكم لبنوا أب واحد وأم واحدة ما هجنت آباءكم ولا فضحت أخوالكم فلما أصبحوا باشروا القتال واحدا بعد واحد حتى قتلوا
وكان منهم أنشد قبل أن يستشهد رجزا فأنشد الأول:
يا إخوتي إن العجوز الناصحه ... قد نصحتنا إذ دعتنا البارحه
... بمقالة ذات بيان واضحه ... وإنما تلقون عند الصائحه.
من آل ساسان كلابا نابحه.
وأنشد الثاني:
إن العجوز ذات حزم وجلد ... قد أمرتنا بالسداد والرشد
نصيحة منها وبرا بالولد ... فباكروا الحرب حماة في العدد.
وأنشد الثالث:
والله لا نعصي العجوز حرفا ... نصحا وبرا صادقا ولطفا
فبادروا الحرب الضروس زحفا ... حتى تلفوا آل كسرى لفا.
وأنشد الرابع:
لست لخنساء ولا للأخرم ... ولا لعمرو ذي السناء الأقدم.
إن لم أرد في الجيش جيش الأعجم ... ماض على الهول خضم حضرمي.
وكل من الأسانيد أطول من هذا قال فبلغها الخبر فقالت الحمد لله الذي شرفني بقتلهم وأرجو من ربي أن يجمعني بهم في مستقر رحمته.
قالوا، وكان عمر بن الخطاب يعطي الخنساء أرزاق أولادها الأربعة حتى قبض".

تاریخ امت مسلمہ لاسماعیل ریحان: (66/1، 538، ط: المنهل)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Print Full Screen Views: 836 May 02, 2023
jang e qadsia me / mein hazrat khansa razi allaho anha ka apne char /4 beto / beton ko jahad / jehad per bhejna or un charo / charon / 4 ka jam e shadat nosh karna, is waqa / waqey ki tehqeeq

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com

Copyright © Al-Ikhalsonline 2024.